احمدآباد27؍ مارچ( ایس او نیوز ؍ ایجنسی ) پاٹن ضلع کے وڈولی گاؤں کے واگ جی پاڑہ میں ہونے والے فرقہ وارانہ فساد کے سلسلے میں پولیس نے 13؍ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور مزید گرفتاریوں کا امکان ہے۔ فساد میں پولیس نے ایک شخص کی موت کی تصدیق کی ہے۔ اس بیچ یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ فساد کے دن آس پاس کے دیہاتوں سے ٹھاکروں کی شرپسند بھیڑ تین بار وڈولی گاؤں میں آئی تھی اور ہر بار اس کی تعداد پہلے سے زیادہ تھی۔ آخری بھیڑ مسلح تھی جس نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ۔ فساد کے دوران کم از کم 50؍ گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔
چانا سماپولیس اسٹیشن کے سینئر افسر نے بتایا کہ ’’وڈولی گاؤں کے اطراف کے ان دیہاتوں میں جہاں سے فسادی بھیڑ آئی تھی، کومبنگ آپریشن کر کے ہم نے 13؍ افراد کو گرفتار کیا ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ ’’اب تک جنہیں گرفتار کیا گیا ہے ان کا تعلق سنسار اور دھار پوری گاؤں سے ہے۔ مزید گرفتاریاں ہوسکتی ہے۔‘‘ یادرہے کہ سنیچر کو 2؍ طلبہ کے چھوٹے سے جھگڑے نے فساد کا رخ اختیار کر لیا تھا۔ اس سلسلے میں معاصر انگریز ی اخبار انڈین ایکسپریس نے متاثر علاقے کے رہنے والوں سے گفتگو کی بنیاد پر اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سنیچر کو فسادی گروپ وڈولی گاؤں میں 3؍ بار لوٹ کر آیا تھا۔ اخبار کے مطابق 19؍ سالہ امجد بیلم اس وقت دوپہر کو کھانا کھانے کیلئے کھیت سے گھر آیا تھا جب اس نے پہلی بار سنسار گاؤں سے آنے والی نوجوانوں کی بھیڑ کی آوازیں سنیں، وہ لوگ واگ جی پاڑہ نامی مسلمانوں کی چھوٹی سی بستی کی طرف بڑھے چلے آرہے تھے اور چلّارہے تھے کہ ’’ ہم تم سب مسلمانوں کو مار ڈالیں گے ۔ ‘‘ امجد کے مطابق’’مگر ہمارے گاؤں کے بڑوں نے جب انہیں سمجھایا تو وہ لوٹ گئے۔‘‘ یہ سنسار گاؤں سے واگ جی پاڑہ آنے والی پہلی بھیڑ تھی جو زیادہ تر ٹھاکروں پر مشتمل تھی ۔ واگ جی پاڑہ وڈولی سے منسلک مسلمانوں کی چھوٹی سی بستی ہے جس میں کم وبیش 1500؍ مسلمان رہتے ہیں۔ بعد میں جب فساد پھوٹ پڑاتو اس میں امجد کے والد ابراہیم خان لال خان(45) کو اپنی جان گنوانی پڑی جبکہ 20؍ افراد زخمی ہوئے جن میں سے 5؍ کی حالت نازک ہے۔ فسادیوں نے 5؍ گاڑیاں اور متعدد گھر نذآتش کردیئے ، جانور اپنے ساتھ لے گئے اور اناج کو بھی آگ لگادی ۔ بعد میں دونوں طرف سے ایک دوسرے کے خلاف شکایتیں درج کرائی گئیں جن کے نتیجے میں 13؍ افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئیں ۔ فساد میں اپنے والد کے سائے سے محروم ہوجانے والے امجد مزید بتاتے ہیں کہ 10؍ سے 15؍ افراد کی بھیڑ کو جب گاؤں کے لوگوں نے سمجھا بجھا کر بھیج دیا تو پھر کم بیش 100؍ نوجوانوں کی ایک بھیڑ آئی جو لاٹھی ، ڈنڈوں اور دھار دار ہتھیاروں سے لیس تھی۔ امجد کے والد اور گاؤں کے دیگر بزرگوں نے پھر انہیں سمجھانے کی کوشش کی مگر عمران جو امجد کے بڑے بھائی ہیں، نے بتایا کہ ’’ بھیڑ نے ہم لوگوں پر ہتھیاروں سے حملہ کردیا ۔ ‘‘ جلد ہی 5؍ سے 6؍ پولیس اہلکاروں پر مشتمل ایک وین گاؤں پہنچ گئی جسے دیکھ کر حملہ آور بھیڑ کے لوگ فرار ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ مشکل سے آدھا گھنٹہ ہوا ہوگا کہ سنسار گاؤں سے 500؍ افراد پر مشتمل تیسری مسلح بھیڑ حملہ آور آئی ۔ ہم نے عورتوں اور بچوں کو فوراً وڈولی گاؤں کی مسجد میں پہنچا دیا۔ 15؍ سے 16؍ آدمی ہی واگ جی پاڑہ میں رہ گئے تھے جن کا مقصد گھر وں اور وہاں بندھے ہوئے جانوروں کا تحفظ تھا۔ ‘‘
تیسری بھیڑ کی یلغار سے قبل ابراہیم خان نے اپنے دونوں بیٹوں اور بھتیجوں کو اپنے بھائی کے مکان کے پہلے منزل پر بند کر کے باہر تالا لگادیا تھا۔ امجد بتاتے ہیں کہ ’’ میں نے اس وقت اپنے والد کو آخری مرتبہ دیکھا تھا ۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں دیکھتاہوں کو بھیڑ واپس گئی یا نہیں۔‘‘ امجد کے مطابق کمرے کے اندر ہم نے گولیاں چلنے کی چار سے پانچ آوازیں سنیں جس کے بعد لوگ مدد کیلئے چیخ پکار کرنے لگے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ ہم جس کمرے میں بند تھے ، کچھ لوگ اس کا بھی دروازہ توڑنے کی کوشش کررہے تھے، ہمیں آوازیں آرہی تھی ہم نے دروازہ اندرسے بند کر لیا۔ جلد ہی پولیس آگئی اور فسادی بھاگ گئے ورنہ شاید ہم لوگ بھی مارے گئے ہوتے ۔‘‘ امجد آئی ٹی آئی کا کورس کررہے ہیں ۔ پولیس نے سنیچر کی آدھی رات کو اہل خانہ کو ابراہیم خان کی موت کی اطلاع دی۔ ابراہیم کی بیوہ نسیمہ بانو کے مطابق ’’ میرے شوہر ہاتھ جوڑ کر ان لوگوں سے واپس جانے کی اپیل کررہے تھے کیا یہ ان کی غلطی ہے، انہوں نے اپنی فیملی کے تحفظ کو یقینی بنایا مگر خود کو نہیں بچا سکے۔