بنگلورو،3؍مارچ(ایس او نیوز) کرناٹکا پردیش کانگریس کمیٹی صدارت حاصل کرنے کیلئے دن بدن دوڑ شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ 26 فروری کو منعقدہ کانگریس رابطہ کمیٹی میٹنگ کے بعد کے پی سی سی صدارت پر کسی نئے رہنما کو مقرر کرنے پر اس میٹنگ میں ہوئے اتفاق کے ساتھ ہی اس عہدہ کو حاصل کرنے کیلئے مختلف حلقوں سے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہاہے۔ چونکہ یہ انتخابی سال ہے، اسی لئے کے پی سی سی صدارتی عہدہ کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ ہر طبقے سے وابستہ لیڈر اس کوشش میں ہے کہ کسی طرح وہ اس عہدہ پر فائز ہوسکے اور انتخابات میں اپنے طبقے سے وابستہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی کا موقع فراہم کرسکے۔ حالانکہ کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے یہ نہیں کہا گیا کہ کے پی سی سی صدارت سے ڈاکٹر پرمیشور کو فوراً ہٹادیاجائے گا، لیکن کہاجارہاہے کہ خود ڈاکٹر پرمیشور اس کوشش میں ہیں کہ ایک اور میعاد کیلئے وہ پارٹی کی صدارت پر برقرار رہ سکیں، تاکہ اگلے انتخابات میں اگر کانگریس پارٹی برسر اقتدار آگئی تو عہدۂ وزیراعلیٰ کیلئے ان کی دعویداری مضبوط ہوسکے۔ پرمیشور نے کے پی سی سی صدارت پر تقریباً ساڑھے چھ سال مکمل کرلئے ہیں اس کے باوجود بھی انہوں نے بنگلور اور دہلی میں اپنے حامیوں کے ذریعہ کانگریس قیادت کو یہ باور کرانے کی کوشش جاری رکھی ہے کہ فی الوقت انہیں اگلے انتخابات تک اس عہدہ سے ہٹایا نہ جائے، ان کے ساتھ ہی کے پی سی سی صدارت حاصل کرنے کیلئے وزیر توانائی ڈی کے شیوکمار ، کولار کے رکن پارلیمان کے ایچ منی اپا، سابق وزیر ایس آر پاٹل وغیرہ بھی اپنے اپنے سیاسی آقاؤں کے ذریعہ کے پی سی سی صدارت کیلئے دوڑ دھوپ میں لگے ہوئے ہیں۔ ریاست کے طاقتور وکلیگا فرقہ سے وابستہ ڈی کے شیوکمار نے پارٹی قیادت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ وکلیگا فرقہ کو اگر پارٹی کی صدارت سونپی جاتی ہے تو اس طبقے کے ایک بہت بڑے ووٹ بینک کو کانگریس کی جانب راغب کرایا جاسکتاہے، جو فی الوقت جنتادل (ایس) کے تئیں وفادار ہیں۔ وزیر اعلیٰ سدرامیاکی طرف سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ کوئی بھی کے پی سی سی صدر ایسا بنے جو انتخابات کے مرحلے میں ان کی بات سنے، اسی لئے ان کا خیمہ ایس آر پاٹل یا کرناٹک کے نمائندہ برائے دہلی اپا جی ناڈگوڈا کو کے پی سی سی صدارت دینے کیلئے کوشاں ہے۔ حال ہی میں سابق وزیر وی سرینواس پرساد کے کانگریس سے الگ ہوجانے کے بعد یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش ہوئی ہے کہ کانگریس دلتوں کی دشمن ہے اس تاثر کو ختم کرنے کیلئے سابق مرکزی وزیر کے ایچ منی اپا اس بات کیلئے کوشاں ہیں کہ وہ کے پی سی سی صدارت حاصل کریں اور یہ باو رکراسکیں کہ کانگریس دلتوں کی دشمن نہیں ہے، دوسری طرف پرمیشور گروپ کا بھی یہ ماننا ہے کہ پرمیشور کو اگر کے پی سی سی صدارت پر برقرار رکھا گیا تو یہ تاثر ختم کیاجاسکتاہے کہ کانگریس دلتوں کی دشمن ہے ۔