اوٹاوا،25اگست؍؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کینیڈا کی شاہی ماؤنٹیڈ پولیس نے، (آر سی ایم پی)جسے عام طور پر ماؤٹینز بھی کہا جاتا ہے، اپنے خواتین عملے کو وردی کے ساتھ حجاب پہننے کی اجازت دے دی ہے۔حکومت کے ترجمان سکاٹ بارڈسلی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد کینیڈا کی مختلف برادریوں میں تنوع کی عکاسی کرنے کے علاوہ مسلمان خواتین کی توجہ حاصل کرنا ہے۔کینیڈین پولیس کی یہ وردی جو اپنی بڑے کناروں والی ٹوپی کی وجہ سے مقبول تھی، دو صدی پہلے متعارف کروائے جانے کے بعد بہت کم تبدیل ہوئی ہے۔کینیڈا کے سوشل میڈیا کے مطابق پولیس نے کام کے لیے موزوں تین قسم کے حجاب کے ڈیزائن آزمائے گئے جس کے بعد ایک ڈیزائن منتخب کر لیا گیا۔مونٹریال کے اخبار لا پریسی کا کہنا ہے کہ ایک اندرونی میمو کے مطابق اس حجاب کو ضرورت پڑنے پر جلدی اور آسانی کے ساتھ ہٹایا جا سکتا ہے۔ کینیڈا میں رواں برس یہ پالیسی خاموشی سے متعارف کروائی گئی تھی، اگرچہ افسران کی جانب سے ایسی کوئی درخواست نہیں دی گئی تھی۔اخبار لا پریس کے مطابق گذشتہ دو برس کے دوران 30افسران نے مذہبی اور ثقافتی وجوہات کی بِنا پر وردی کے قوانین کو نرم کرنے کی بات کی تھی۔زیادہ تر کیسوں میں یہ درخواستیں مرد افسروں کی جانب سے دی گئی تھیں کیونکہ وہ داڑھی رکھنا چاہتے تھے۔کینیڈا میں سکھ افسروں کو سن 1990سے پگڑی پہننے کی اجازت دی گئی تھی۔سرخ وردی، چمڑے کے جوتے اور ہیٹ 19ویں صدی کی یاد دلاتے ہیں جب کینیڈین گھڑ سوار پولیس امریکی شراب کے سمگلروں کا پیچھا کیا کرتی تھی۔برطانیہ کی ملٹری وردیوں سے متاثر اس وردی میں اب تک بہت معمولی تبدیلی کی گئی ہے۔ٹورناٹو اور ایڈمنٹن کے بعد آر سی ایم پی ایسی تیسری تنظیم ہے جس نے پولیس فورس میں خواتین کو حجاب پہننے کی اجازت دی ہے۔