بنگلورو28؍مارچ (ایس او نیوز) ایک طرف قحط سالی دوسری طرف پینے کے پانی کی قلّت اور تیسری طرف تیز ہوتا ہوا گرمی کا موسم جس سے ریاست کے عوام کی جان آفت میں آئی ہوئی ہے، اب خبریں مل رہی ہیں کہ نئے مالی سال یعنی یکم اپریل سے"الیکٹرک شاک"کی صورت میں عوام کو چوتھی آفت کا سامناکرنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔کیونکہ ریاستی حکومت نے الیکٹری سٹی سپلائی کمپنیوں کو بجلی کی قیمت بڑھانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے بجلی سپلائی کرنے والی پانچ کمپنیوں نے کرناٹکاالیکٹری سٹی ریگیولیٹری کمیشن(KERC)کو بجلی کی قیمت فی یونٹ1.20روپے بڑھانے کی تجویز بھیجی تھی۔اس سلسلے میں KERCنے عوام سے اعتراض درج کرنے کے لئے اشتہار شائع کیا تھا۔ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق اب و ہ مہلت ختم ہونے کے بعد KERC نے ان بجلی سپلائی کمپنیوں کو یکم اپریل سے قیمت بڑھانے کے لئے ہری جھنڈی دکھا دی ہے۔کہا گیا ہے کہ قحط سالی کی وجہ سے حکومت کو بجلی خریدنے کے لئے زیادہ رقم خرچ کرنی پڑ رہی ہے اس لیے اب بجلی کی قیمت بڑھانے کے سوا حکومت کے پاس کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے۔