بھٹکل 3؍مارچ (ایس او نیوز) الیکشن کا موسم آتے ہی سیاسی پرندوں کی ایک درخت سے دوسرے درخت یا ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف ہجرت ایک عام سی بات ہوتی ہے۔ لیکن کبھی کبھار کچھ شخصیات کی سیاسی ہجرت جسے دَل بدلی کہا جاتا ہے ، لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے۔
حالانہ ابھی عام انتخابات کو ایک سال سے زاید عرصہ باقی ہے، لیکن دَل بدلی کا سیزن ابھی سے شروع ہوگیا ہے۔ ضلع شمالی کینرا کی اگر بات کی جائے تو کمٹہ کے دینکر شیٹی نے جے ڈی ایس سے بی جے پی کی چھترچھایا میں پناہ لینے کا اعلان کرکے ابھی دو دن پہلے ہی حیران کردیا تھا۔ بالکل اسی طرح کچھ دن پہلے بی جے پی کے رکن پارلیمان اننت کمار ہیگڈے نے سابق کانگریسی ایم ایل اے جے ڈی نائک کے گھر پہنچ کر جو ملاقات کی اس پرسیاسی مجلسوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں کہ اب شاید جے ڈی نائک بھی بی جے پی کا کنول اپنے کالر میں لگانے کے لئے تیار ہوگئے ہیں۔مگر آج جمعہ کو پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے جے ڈی نائک نے کانگریس سے مستعفی ہونے کا اعلان کرنے کے ساتھ ہی اُن کے بی جے پی میں شامل ہونے کی خبروں کو مزید تقویت حاصل ہوگئی۔
خاص ذرائع سے ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بنگلورو میں 9/ مارچ کو منعقد ہونے والے بی جے پی کے اجلاس کے دوران مسٹر جے ڈی نائک باقاعدہ بی جے پی میں شامل ہونے جارہے ہیں۔ ان کے ساتھ سابق وزیر کمار بنگارپا،پریمل ناگپا اور اڈپی کے جئے پرکاش ہیگڈے بھی کانگریس سے ہجرت یا دل بدلی کرتے ہوئے بی جے پی کا دامن تھامنے والے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ مسٹر جے ڈی نائک اپنے ساتھ اپنے حامیوں کو بھی بڑی تعداد میں بی جے پی میں شامل کروانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ انہوں نے اسمبلی حلقے میں اپنی آمد و رفت تیز کردی ہے۔ ہوناور کے کچھ علاقوں میں اپنے حامیوں سے صلاح و مشورہ کرنے کے لیے خصوصی دورے کی خبریں بھی موصول ہوئی ہیں۔اگر ان ذرائع پر بھروسہ کریں تو جے ڈی نائک کے ساتھ کانگریس کے جو دیگر لیڈر اور رضاکار بی جے پی میں شامل ہونے والے ہیں ، ان میں ناگیش دیواڈیگا، جی جی شنکر، یووا کانگریس لیڈصدرسچن وغیرہ کے نام لیے جارہے ہیں۔اس کے علاوہ ہوناور تعلقہ پنچایت کے ایک آزاد رکن کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ بھی بی جے پی کے دامن میں چلے جائیں گے۔خبر یہ بھی ہے کہ بھٹکل تعلقہ کے یلوڈی کوور اور بیلکے پنچایت کے کچھ اراکین بھی اسی نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ جبکہ بینگرے گرام پنچایت کے صدر کو بھی اس جال میں پھانسنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
اس دوران اس نئی صورتحال سے بی جے پی میں ایک طرف جہاں خفیہ کوششیں تیز ہوگئی ہیں اور زیادہ سے زیادہ کانگریسی و دیگر سیاسی لیڈران کے ہاتھ میں کنول تھمانے کی کوشش پر خوشی اور جوش دکھائی دے رہا ہے ، وہیں دوسری طرف بی جے پی کے ہی ایک بڑے حلقے کی طرف سے اندرونی چپقلش اور بے اطمینانی خبریں بھی آنے لگی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے آئندہ دو ایک ہفتوں میں بھٹکل کانگریس کا سیاسی اونٹ کس کروٹ بیٹھنے والا ہے۔