چنتامنی:23 /مارچ(محمد اسلم/ایس او نیوز)کرناٹکا رکشناویدیکے ریاستی صدر اگلا گورکی چلپتی کے حکم کے مطابق ضلعی صدر این۔امبریش کے زیر صدارت میں یہاں کے ٹروالرس بنگلہ میں تعلقہ سطح رکشناویدیکے کمیٹی تشکیل دی گئی تعلقہ صدر کے طور پرکے۔ایل۔سرنیواس کو منتخب کیا گیانائب صدر نورائن سوامی او ر مورلی منوہر جنرل سکریٹری روی سکریٹری تلسی کنوینر کے حیثیت سے راجنا خزانچی ستیہ نارائن شٹی کارکنوں کے طور پرراجو ایشور لکشمی پتی ناگراج رجیش ششی دھرا سمیت بقیہ لوگوں کو منتخب کیا گیا اس موقع پر ضلعی صدر این۔امبریش نے بات کرتے ہوئے کہا کہ حلقے چنتامنی اندھراپردیش کا سرحدی علاقہ ہے یہاں پر کنڑا زبان کے تحفظ کیلئے کنڑا تنظیمیں دن رات جدوجہد کررہے ہیں یہاں پر کنڑا زبان کو ہی زیادہ فروغ دیا جارہا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ یاست کرناٹک میں جنم لینے والے ہر ایک شخص کو چاہئے کہ وہ کنڑا کے تحفظ کیلئے جدوجہد کریں اور اس بات کو دل سے نکال دیں کہ صرف ادباء شعراء کوہی کنڑا زبان کے فروغ کیلئے کام انجام دینے کا خیال دلوں سے نکال کر باہر کریں کنڑا زبان کی حالت نازک ہوچکی ہے کنڑیگاؤں کو چاہئے کہ کوشش کریں کہ اس کی حالت مزید نازک نہ ہوانہوں نے مشورہ دیا کہ روز مرہ زندگی میں کنڑا زبان کو استعمال کرتے ہوئے دوسروں کو بھی کنڑا زبان سکھائی جائے اور کنڑا زبان کو مادری زبان کہنے سے قبل اس کو بچانے کیلئے جدوجہد کریں کنڑا ادیب اور اداکار ہی کنڑا زبان کے تحفظ کیلئے جدوجہد کریں یہ خیال ٹھیک نہیں ہے ۔
امبریش نے کہا کہ ریاست کرناٹک میں کنڑا زبان کے ساتھ دیگر زبانیں بھی اپنے بچوں کو سکھائی جائیں تب ہی ریاست کی مجموعی ترقی ممکن ہوسکے گی انہوں نے اپنے خطاب میں اور کہا کنڑا زبان اور ادب سے نہیں بہت لگاؤ ہے مگر دیہی علاقوں کے بچوں کے مجموعی ترقی کو ممکن بنانے کیلئے دیگر زبانوں میں بھی تعلیم دئیے جانے کا نظام قائم کرنا ضروری ہے مختلف زبانوں کے زریعہ تعلیم دینے کے نظام کو قائم کرنے کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں معیاری تعلیم دیا جانا بھی ضروری ہے اس وقت دیہی علاقوں کے طلباء کی ترقی ممکن ہوسکتی ہے ملک میں تعلیمی نظام ٹھیک نہیں ہے یہی سبب ہے کہ ہر ایک بچے کو معیاری تعلیم نہیں مل رہی ہے ہر بچے کا بنیادی فرض ہے کہ اسے معیاری تعلیم دی جائے تقریب کے اختتام میں چنتامنی حلقہ کے مختلف کنڑایگاؤں کو تہنیت پیش کی گئی ۔