منگلورو ،5؍اکتوبر(ایس او نیوز)فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور رواداری کے حوالے سے معروف ریاست کرناٹک کو کسی بھی حال میں گجرات ہونے نہیں دیا جائے گا۔ بی جے پی اور زعفرانی کیمپ کو اس بات کی ہر گز گنجائش فراہم نہیں کی جائے گی کہ وہ کرناٹک میں امن شکنی حالات پید ا کریں۔ ان خیالات کا اظہار ریاستی وزیر برائے خواراک و شہری رسدات یوٹی قادر نے بر وز چہارشنبہ منگلورو کے سرکیوں باؤز میں طلب کردہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ ریاست کرناٹک خود اپنا ایک منفرد پس منظر ہے، کرناٹک اس خصوصیت و خاصیت کو فروغ دینے کے حوالے سے ریاست کے عوام بالکل سنجیدہ ہیں۔ عوام کی اس سنجیدگی کو کوئی بھی رنجیدہ نہیں کرسکتا ہے۔ یہاں کے لوگوں نے کرناٹک کی پرامن فضا کی حفاظت کے لئے ہمشیہ تیار دکھائی دیں گے، لیکن بی جے پی والوں کی طرف سے انتخابات کے پیش نظر عوام کو گمراہ کرنے کے بیانات دیئے جارہے ہیں۔ تاہم عوام بی جے پی کی گمراہ کن باتوں کی زد میں آکر پیچیدگی کا سامنا کرنا نہیں چاہتے، عوام بی جے پی کی بے سمت و بے منزل باتوں کے نرغہ میں آنے والے نہیں ہیں۔گزشتہ انتخابات کے موقع پر عوام کے سروں پر امیدوں کی پوٹلی رکھنے والی بی جے پی برسر اقتدار آنے کے بعد ایک بھی امید بر نہیں لائی ، اب بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کرناٹک کے دورہ پر آنے کی اطلاع ہے۔ اس موقع پر امیت شاہ کو چاہئے کہ وہ بی جے پی کی جانب سے کئے گئے وعدوں کے سلسلہ میں ریاستی عوام کو وضاحت پیش کریں ۔یوٹی قار نے مرکزی حکومت کی ناکامیوں کے ضمن میں کہا کہ کالادھن واپس لائے جانے کا وعدہ زوروں پر کیا گیا تھا۔ لیکن اب تک کالا دھن لایا نہیں گیا۔ ملک کی معاشی و اقتصادی حالات مضبوط کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔ لیکن وہ بھی نہیں کیا جاسکا ۔ پاکستان کو دندان شکن جواب دینے کی بات کی گئی تھی۔ روزگار کے ایک کروڑ مواقع فراہم کرنے کا بھروسہ دلایا تھا مگر وہ بھی نداردہے ، کسانوں کو آسانی فراہمی کا وعدہ بھی وفانہ ہوسکا، پٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے کہا گیا تھا۔ وہ بھی نہیں کیا گیا ، داؤد ابراہیم کو گرفتار کرنے میں بھی مرکزی حکومت ناکام ہوگئی، نوٹ بندی سے کالے دھن کو واپس لانے اور دہشت گردوں کی کمر توڑنے کی بات کی گئی تھی۔ اس سے یہ فائدہ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ ملک کی مجموعی پیداور جی ڈی پی اضافہ کے معاملے بھی بھی بی جے پی بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ الغرض عوام سے کئے گئے وعدے سرد خانے کی نذر ہوگئے، اس بارے میں ریاستی عوام کو امیت شاہ ضرور جواب دیں، یوٹی قادر نے بی جے پی کی دوہری پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حفاظت کی خاطر دی گئی سکیورٹی کو بی جے پی نے طنز کرتے ہوئے مذاق اڑایا تھا، اب خود بی جے پی امیت شاہ کو زیڈپلس (Z+) سکیورٹی دے رہی ہے۔ بلٹ پروف کار بھی استعمال کی جارہی ہے، اس طرح بی جے پی ہر قدم پر ٹھوکر کھاتی نظر آرہی ہے۔ کسی بھی زاویہ سے وہ کہیں بھی کامیاب دکھائی نہیں دے رہی ہے، رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے کی جانب سے ریاستی حکومت پر کئے گئے تبصرہ نوٹ کی بات پر یوٹی قادر نے کہا کہ ریاست کو لوٹنے والے کون لوگ ہیں ، جیل کو جانے والے کس پارٹی کے ہیں؟ کورٹ کچہری کے چکر کون کاٹ رہے ہیں؟ اس سلسلہ میں عوام اس سے زیادہ بہتر جانتے ہیں۔
یوٹی قادر نے کہا کہ سبسیڈی مٹی کے تیل کے سلسلہ میں ریاستی کشتی مچھیروں کوجن مسائل کا سامنا ہے ان کو بہت جلد حل کر لیا جائے گا۔ تمام مچھلی تاجروں کو چاہئے کہ وہ سبسیڈی گیس حاصل کرنے کے لئے اپنے اپنے آدھار کاارڈ کے ساتھ بینک کھاتوں میں اپنے ناموں کا اندراج کروائیں۔ اس کے لئے دو مہینہ کا وقت دیا گیا ہے۔ ان لوگوں کو پرانے طریقہ کے مطابق ہی مٹی کا تیل فراہم کیا جاتا رہے گا، یوٹی قار نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اس کے لئے 60کروڑ روپے مختص کر رکھی ہے، محکمہ مچھلی پالن اگر ذمہ داری اٹھانے پر آمادہ رہتا ہے تو محکمہ خوارک اس رقم کو منتقل کرنے کے لئے تیار ہے، اخباری کانفرنس میں تعلقہ پنچایت صدر محمد مونو، پارٹی لیڈران کناچور مونو، سنتوش کمار شیٹی، عمر فجیر و دیگر افراد شریک تھے۔