ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / کاشی کے وشوناتھ کوریڈور کا تنازعہ پہنچا سپریم کورٹ

کاشی کے وشوناتھ کوریڈور کا تنازعہ پہنچا سپریم کورٹ

Sat, 24 Nov 2018 03:09:22    S.O. News Service

لکھنؤ:23/نومبر (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) کاشی میں وشوناتھ مندر سے لے کر گنگا تک کاریڈور بنانے کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ کوریڈور کے منصوبہ کی مخالفت میں جیوتش پیٹھ کے شنکراچاری سوروپانند سرسوتی کے شاگرد طویل مہم چلائے ہوئے ہیں۔سپریم کورٹ میں پٹیشن جتیندرناتھ ویاس اور انجمن انتظامیہ مسجد نے داخل کی ہے۔ دراصل کاشی میں وشوناتھ مندر سے لے کر گنگا تک ایک کاریڈور بنایا جا رہا ہے۔ مقصد ہے کہ شردھالو گنگا اشنان کرکے آسانی سے وشوناتھ مندر تک پہنچ سکیں۔ اس کے لئے ارد گرد کی گھنی آبادی کے مکانوں کو خرید کر انہیں مسمار کیا جا رہا ہے۔ لیکن منصوبے کی زد میں کئی دیومالائی اور تاریخی مندر بھی آ رہے ہیں۔ کاشی کے باشندگان کی مخالفت کی وجہ بھی یہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت اووربرج کیوں نہیں بنا دیتی۔عرضی میں یہاں ہو رہے تعمیر اور مسمار کرنے پر فوری اثر سے روک لگانے مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پہلا درخواست گزار کاشی وشوناتھ مندر کے ویاس خاندان کا رکن ہے۔ وہ مندر اور تراشیدہ صنم کی پوجا ارچنا ارچنا کرتا ہے جبکہ دوسرا درخواست گزارگیان ویاپی مسجد کا انتظام دیکھتا ہے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کاشی وشوناتھ مندر اور گیان ویاپی احاطے میں دخل دے رہی ہے۔ جبکہ دونوں درخواست گزار اپنے مذہبی مقامات کا انتظام دیکھتے ہیں۔ ویاس خاندان اور مسجد کے انتظام کے درمیان اختلافات ہونے کے باوجود دونوں کے درمیان اتفاق رائے پر مبنی قرار ہے تاکہ دونوں فرقوں کے درمیان امن قائم رہے اور دونوں ساتھ ساتھ رہیں۔ اس معاہدہ میں ریاستی حکومت بچولئے کے کردار میں ہے تاکہ معاہدہ کی شرائط کو لاگو کیا جا سکے اور باہمی موافقت قائم رہے۔ اس معاہدہ کے مطابق مسجد انتظامیہ کی جانب سے سالانہ دیکھ بھال کے علاوہ پورے احاطے میں دونوں اطراف کی رضامندی کے بغیر کوئی نئی تعمیر نہیں کی جا سکتی ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ کاشی وشوناتھ مندر کے ارد گرد ترقی اور تجدید کے نام پر مرکزی حکومت کی ہدایت پر گزشتہ چند ماہ سے ضلع انتظامیہ اس علاقے میں کسی کو گھسنے نہیں دیتی ہے اور مسلسل انہدامی کاروائی کا کام چل رہا ہے۔اس کے لئے حکومت اور انتظامیہ نے دونوں درخواست گزاروں سے کوئی اجازت نہیں لی، جو اس علاقے کا انتظام دیکھتے ہیں۔ 


Share: