کاروار،23/ مئی (ایس او نیوز) حالیہ اسمبلی الیکشن میں ضلع کی چھ سیٹوں میں سے چار سیٹوں پر کانگریس کے امیدواروں نے جیت درج کی ہے مگر ہائی کمان کے لئے یہی جیت سر درد کا سبب بن گئی ہے کیونکہ چاروں اراکین اسمبلی وزارتی قلمدان کے لئے اپنی اپنی لابی چلا رہے ہیں۔
موجودہ صورتحال یہ ہے کہ 135 اراکین اسمبلی میں سے 8 اراکین نے پہلے راونڈ میں وزارت کی بازی مار لی ہے اور اب صرف 20 اراکین کو وزیر بنایا جا سکتا ہے ۔ اس کے لئے اگر پہلی مرتبہ جیت درج کرنے والے 30 اراکین کو الگ کیا جائے تو ایک سے زائد مرتبہ جیتنے اور اپنی سابقہ کارکردگی اور پارٹی کے لئے اپنی خدمات کی بنیاد پر وزارت کی دعویداری کرنے والے سو کے قریب اراکین موجود ہیں ۔ ایسے میں ذات پات اور طبقات کی بنیاد پر انصاف کرتے ہوئے مناسب اور اہل ترین رکن کا انتخاب کرکے وزیر بنانا ایک بڑا مسئلہ ہے جسے حل کرنے کی ذمہ داری کانگریس ہائی کمان پر ہے ۔ اور ہائی کمان کے لئے فکر مندی کی بات یہ ہے کہ وزارتی قلمدان سے محروم پر اگر دل برداشتہ ہونے والوں کا بڑا گروپ بن گیا تو پھر یہ حکومت کے لئے نئی مصیبت کھڑی کر سکتا ہے۔
ضلع شمالی کینرا کے عوام کی طرف سے ایک مطالبہ یہ کیا جا رہا ہے کہ اس مرتبہ ضلع سے کم از کم دو اراکین کو وزارت سونپی جائے اور اس وقت چاروں اراکین وزارت کے لئے خود ہی یا اپنے حامیوں کے توسط سے دعویداری پیش کر رہے ہیں۔
وزارت کی پہلی فہرست میں ہلیال جیتنے والے سینئر لیڈر آر وی دیشپانڈے کا نام ہونے کی بات سننے میں آئی تھی ، مگر اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ پارٹی کے ریاستی صدر ڈی کے شیو کمار نے دیشپانڈے کو وزارت میں شامل رکھنے کی کڑی مخالفت کی کیونکہ دیشپانڈے نے ضلع میں سوائے اپنے کسی اور امیدوار کو جیت دلانے کے لئے کوئی کوشش کی نہیں کی ۔ خبر یہ بھی ہے کہ مارگریٹ آلوا نے اپنے نویدیت آلوا کو کمٹہ سے شکست دلانے میں دیشپانڈے کے چیلوں کا ہاتھ ہونے کی شکایت ہائی سے کمان کر دی ہے۔
اس کے علاوہ پارٹی نے دیشپانڈے کو اسمبلی اسپیکر کا منصب سونپنے کا فیصلہ کیا تو دیشپانڈے نے کسی بھی قیمت پر اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کا خیال ہے کہ کرناٹکا اسمبلی میں اسپیکر کا عہدہ منحسوس ثابت ہوتا ہے اور جو شخص اسپیکر بنتا ہے وہ پھر الیکشن ہار جاتا ہے ۔ اس طرح وزارت کی تقسیم کے پہلے راونڈ میں دیشپانڈے کا نام خارج ہوگیا۔
کاروار سے کانگریس کی ٹکٹ پر دوسری مرتبہ جیت درج کرنے والے ستیش شائل کے حامیوں نے میڈیا کے ذریعہ انہیں وزارت بنانے کا مطالبہ سامنے رکھا ہے تو دوسری طرف بھٹکل حلقہ سے دوسری مرتبہ رکن اسمبلی بننے والے اور کانگریس کے ٹکٹ پر 30 ہزار سے زائد ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہونے والے منکال وئیدیا کو ماہی گیری و بندرگاہ کا وزیر بنانے کا مطالبہ ماہی گیر طبقہ کی طرف سے پورے زور و شور کے ساتھ کیا جا رہا ہے ۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ستیش سائل اور منکال وئیدیا کی طرف سے مقامی سطح پر مطالبہ میڈیا میں جاری رکھنے کے بجائے اپنے حامیوں کو بنگلورو بلوا کر وہاں سے ریاستی لیڈروں اور ہائی کمان پر دباو بنانا کارگر ہو سکتا ہے۔
ادھر سرسی سے جیت درج کرنے والے بھیمنّا نائک کا نام بھی پہلی فہرست میں ہونے کی بات سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی ۔ بتایا جا رہا ہے کہ بھیمنّا کو وزیر بنانے میں مدھو بنگارپّا خاص دلچسپی لے رہے ہیں ۔ مگر پہلی فہرست میں ان کا نام بھی نہیں آیا ۔ مگر اپنے حامیوں کی مدد سے بھیمنّا کی کوشش جاری رہنے کی خبر ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ وزارتی منصبوں کی تقسیم کے دوسرے راونڈ میں ہائی کمان کی چابی سے ضلع کے کس رکن اسمبلی کی قسمت تالا کھلتا ہے۔