نئی دہلی،28نومبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2007 سیلے کر اب تک 115 سیکورٹی اہلکاروں نے خود کشی کی ہے،اور ان10 سالوں میں سب سے زیادہ 2017 میں 36 جوانوں کی خود کشی کا معاملہ سامنے آیاہے۔چھتیس گڑھ کے ماؤنواز متا ثرہ علاقوں میں تعینات سیکورٹی اہلکاروں کی خود کشی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس سال یعنی 2017 میں 36 جوانوں نے خود کشی کر لی،جو پچھلے10 سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔ذرائع کے مطابق ریاست میں پچھلی ایک دہائی کے دوران جوانوں کی خودکشی کی یہ تعداد سب سے زیادہ ہے ۔ریاستی پولیس اور سی آر پی ایف کے جوانوں کی خود کشی کی سب سے زیادہ تعداد سال 2009 میں 13 تھی جو اس سال بڑھ کر 36 ہو چکی ہے۔ ریاست کے 17 ضلعے بایاں محاذ کی انتہا پسندی سے متاثر ہیں ۔سال 2017 کے ریکارڈ کے مطابق پچھلے دس سالوں کے دوران خودکشی کے31 فیصد واقعات صرف اس سال پیش آئے ہیں۔چھتیس گڑھ کا قیام سال 2000 میں ہوا تھا اور ریاستی پولیس ابھی سال2000 سے 2007کیدوران ہونے والے واقعات سے متعلق اعداد و شمار جمع کر رہی ہے۔سوسائیڈنوٹ کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ جوانوں کی خود کشی کی اہم وجوہات میں مشکل حالات میں کام کرنا ، ڈپریشن اور چھٹی ملنے میں دشواری جیسے معاملے شامل ہیں۔ذاتی اور گھریلو پریشانیوں کے سبب 50 فیصد ، بیماری سے متعلق 11 فیصد ، کام سے متعلق 8 فیصد اوردوسری وجوہات سے 13 فیصد خود کشی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔جبکہ 18 فیصد معاملے کی جانچ چل رہی ہے۔چھتیس گڑھ کے اسپیشل ڈی جی(نکسل آپریشن) ڈی ایم اوستھی نے ان اعداد و شمار کو مایوس کن قرار دیا ہے۔اوستھی نے ہندستان ٹائمس کو بتایا ؛خودکشی کی وجوہات کی جانچ کے لئے پولیس سطح کے ایک سپرنٹنڈنٹ کو مقرر کیا جائیگا ۔ ہم اسے روکنے کے لئے ایک منصوبہ بنانے پر عور کر رہے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ماہرین نفسیات کی بھی مدد لیں گے۔بستر کے سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ خود کشی کے واقعات سے جوانوں کا حوصلہ کمزور پڑتا ہے۔ماؤنوازوں کے ساتھ مڈبھیڑ میں اپنے ساتھیوں کی موت سے بھی جوان متاثر ہوتے ہیں۔اس سال مڈبھیڑ میں 69 ماؤنوازوں کے ساتھ ساتھ 59 جوان بھی مارے گئے ہیں۔