اسلام آباد،21مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے مختلف علاقوں میں مردم شماری کے پہلے مرحلے کے تحت کام جاری ہے۔منگل کو صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں مردم شماری کے کام میں مصروف ٹیم پر ایک مسلح شخص نے فائرنگ کی، جس سے ٹیم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار زخمی ہو گیا۔موقع پر موجود دیگر اہلکاروں کی جوابی فائرنگ میں مسلح حملہ آور بھی زخمی ہو گیا، جسے حراست میں لینے کے بعد پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کر دیا گیا۔یہ واقعہ چارسدہ کی تحصیل تنگی میں پیش آیا، زخمی حملہ آور کی شناخت فخر عالم کے نام سے ہوئی ہے اور اْس کا تعلق مالاکنڈ ایجنسی سے بتایا گیا ہے۔چارسدہ میں مردم شماری مہم سے وابستہ فوج کے افسر اور علاقے کے اسٹنٹ کمشنر محمد علی کے مطابق بظاہر یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہے اور علاقہ میں مردم شماری کا عمل جاری رہے گا۔پاکستان میں مردم شماری کے کام میں مصروف ٹیموں کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور اس ساری مہم کے دوران فوج کے دو لاکھ اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔اس سے قبل ملک کے کسی علاقے سے مردم شماری کی ٹیموں پر حملے کی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔دریں اثنا صوبہ خیبر پختونخواہ ہی کے مرکزی شہر پشاور کے مضافات میں انسداد پولیو مہم کی ٹیم پر فائرنگ کی گئی۔پولیس کے مطابق پولیو وائرس سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی مہم جاری تھی کہ پشاور کے مضافاتی علاقے بڈھا بیر کے گاؤں مریم زئی میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح شخص کی فائرنگ سے ایک رضا کار زخمی ہو گیا، جسے پشاور کے اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ملک کے مختلف علاقوں میں اس سے قبل بھی انسداد پولیو ٹیموں پر حملے کیے جاتے رہے ہیں جن میں درجنوں مرد و خواتین اہلکار ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔