ویانایکم مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آسٹریاحکومت نے ایک ایسے نئے قانون کے مسودے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے تحت حکام کو یہ اختیارہو گا کہ وہ ایسے افرادکو، جن کی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو چکیں ہیں، کو خوراک اور رہائش جیسی سہولیات کی فراہمی روک سکیں گے۔اس نئے مجوزہ قانون کے مسودے کے تحت سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہو جانے کے بعد اگر متعلقہ درخواست دہندگان رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے پر رضامند نہیں ہوتے، تو پھر انہیں اس قسم کے سخت اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ بل کی حتمی منظوری کی صورت میں حکام کوۂ اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ اس معاملے میں تعاون نہ کرنے والے تارکین وطن کو بنیادی سہولیات کی فراہمی روک سکیں گے۔جرمنی میں پناہ گزینوں اور ان کی رہائش گاہوں پر سن 2016 میں اوسطاً دس حملے روزانہ کیے گئے۔ ملکی حزب اختلاف کاکہنا ہے کہ دائیں بازو کے جرائم روکنے کے لیے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔ اس بل کی ابھی ملکی پارلیمان سے منظوری باقی ہے۔ در اصل یہ پیش رفت آسٹریا میں غیر ملکیوں کے حوالے سے قوانین میں جاری وسیع تراصلاحات و ترامیم کی ایک کڑی ہے۔ وہاں بہت سے نئے اقدامات متعارف کرائے جا رہے ہیں جیساکہ اپنی شناخت کے بارے میں غلط بیانی کرنے والے پناہ گزینوں پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے اور چند واقعات میں انہیں جیل بھی بھیجاجاسکتاہے۔آسٹریا کی حکومت ملک میں دائیں بازو کی فریڈم پارٹی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو محدود رکھنے کے لیے اس سلسلے میں پالیسی سازی کر رہی ہے۔ دسمبر سن 2016 میں وہاں ہونے والے صدارتی الیکشن میں فریڈم پارٹی کی کارکردگی کافی اچھی رہی اور یہ جماعت معمولی فرق سے ہی ہاری۔نئے مجوزہ قانون کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے آسٹریاکے وزر داخلہ وولف گانگ سبوٹکا کا کہنا ہے کہ جن درخواست دہندگان کی درخواستیں مسترد ہو جاتی ہیں اور وہ پھر بھی ملک چھوڑنے پر راضی نہیں، انہیں نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کاکہناتھا، ’’سب سے پہلے تواگرانہیں آسٹریا میں قیام کی اجازت نہیں تو انہیں ریاست کی جانب سے کوئی سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی۔‘‘ سبوٹکا کے بقول اس قانون کا مقصد ناکام درخواست دہندگان پر رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالناہے۔