ملزم کو ۱۲؍ اگست تک پولس تحویل میں بھیجا گیا
ممبئی ، 8؍اگست(آئی این ایس انڈیا )مہاراشٹر کے پربھنی شہر سے ممنوعہ تنظیم داعش (آئی ایس آئی ایس) کے رکن ہونے کے الزامات کے تحت گرفتا۲۴؍ سالا مسلم نوجوان محمد اقبال احمد کبیر احمد کو آج اورنگ آباد کی نچلی عدالت نے ۱۲؍ اگست تک پولس تحویل میں بھیجے جانے کے احکامات جاری کیئے ، یہ اطلاع آج یہاں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دیتے ہوئے مزید بتایا کہ گذشتہ دنوں ملزم کی گرفتاری کے بعد ملزم کے اہل خانہ نے جمعیۃ علماء سے رابطہ قائم کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا لڑکا بے قصور ہے اور اس کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ ۱۴؍ جولائی کو پربھنی سے گرفتار کیئے گئے دیگر ملزمیں کی نشاندہی پر مہاراشٹر انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس ) نے گرفتار کیا تھا ۔اورنگ آباد کی نچلی عدالت کے جج اے وائی حسین کے روبرو دونوں ملزم کو پیش کیا گیا جس کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے قبضہ سے اردو زبان میں تحریر چند حلف نامے دستیا ب ہوئے ہیں جس میں اس نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا ہے نیز تحقیقاتی دستہ اس تعلق سے ملزم سے تفتیش کرنا چاہیتا ہے جس کے لیئے انہیں دس دنوں کی پولس تحویل درکارہے ۔جمعیۃ علماء کی جانب سے ملزم کی پیروی کرتے ہوئے ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے کہا کہ اگر ملزم کے قبضہ سے کوئی بھی ایسے دستاویزات برآمد نہیں ہوا ہے کیونکہ اس معاملے میں پہلے سے گرفتار دو ملزمین کی گرفتاری کے بعد ہی ملزم ان دستاویزات کا ضائع کردیتا اگر وہ اس کے پاس واقعی میں ہوتے تو لہٰذاپولس تفتیش کے نام پر ملزم کو دس دنوں کی تحویل دیناضروری نہیں ہے ۔فریقین کے دلائل کی سماعت کے بعد ریلوے عدالت کے جج نے ملزم کو ۱۲؍ اگست تک پولس تحویل میں دیئے جانے کے احکامات جاری کیئے۔ملزم اقبال احمد کی پیروی کے لیئے عدالت میں ایڈوکیٹ اے ایم صدیقی، ایڈوکیٹ سچن مہاترے،ودیگرموجودتھے۔واضح رہے کہ مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ملزم اقبال احمد کو تعزیراتِ ہند کی دفعہ120(B)اور 13,16,18,18(B), 20,38,39 یو اے پی اے قانون کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیاہے اور پر یہ الزام عائدکیاہے کہ وہ آئی ایس آئی ایس کا رکن ہے اور ہندوستان میں غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے ۔