اسلام آباد،21مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) پاکستانی حکومت کے فیصلے کے بعد منگل کی صبح سے طورخم اور چمن کے سرحدی راستوں کے ذریعے افغانستان کے لیے ہر قسم کی آمد و رفت بحال ہو گئی ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے پیر کو ایک بیان میں ’جذبہ خیر سگالی‘ کے طور پر پاک افغان سرحدی راستے فوری طور پر دوبارہ کھولنے کے احکامات جاری کیے، جس پر منگل کی صبح سے عمل درآمد شروع ہو گیا۔سرحدی راستے کھلنے کے بعد ایک ماہ سے زائد عرصے سے پھنسے ٹرک اور کنٹینروں کو بھی سرحد کے آر پار آنے جانے کی اجازت مل گئی جب کہ عام لوگوں کی آمد و رفت بھی بحال ہے۔فروری کے وسط میں ملک میں تواتر کے ساتھ ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد پاکستان نے 16 فروری سے افغانستان سے اپنی سرحد ہر طرح کی آمد و رفت کے لیے بند کر دی تھی۔پاکستان کا موقف رہا ہے کہ ملک میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے تانے بانے افغان سر زمین پر موجود دہشت گردوں سے ملتے ہیں۔افغانستان کی طرف سے بھی ایسے ہی الزامات لگائے جاتے رہیں کہ دہشت گردوں کی پناہ گاہیں اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔سرحد کی بندش سے نا صرف عام شہری بلکہ تاجروں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہو گیا کیوں کہ سینکڑوں ایسے ٹرک بھی سرحد بند ہونے کے سبب پھنس گئے جن پر پھل، سبزیاں یا دیگر ایسی اشیا لدی ہوئی تھیں۔پاک افغان چیمبر آف کامرس کے صدر زبیر موتی والا نے گفتگو میں کہا تھا کہ ایک ماہ سے زائد وقت تک سرحد بند رہنے سے دونوں جانب تاجروں کو خاصا مالی نقصان ہوا ہے۔تاجر اور مبصرین یہ کہتے رہے ہیں کہ سرحد کی بندش کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور دونوں ملکوں کو تجارت و سرحدی معاملات کو سیاسی اّمور سے الگ رکھنا چاہئے۔