اسلام آباد،20مارچ(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان پانی کے متعلق اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ ان کے مطابق کشن گنگا پن بجلی منصوبے پر ثالثی عدالت کا فیصلہ 'پاکستان کے حق' میں ہے اور وہ اس پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔خواجہ آصف نے آج اسلام آباد میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان سندھ طاس معاہدے پر شروع ہونے والے مذاکرات سے قبل پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر بات چیت کا آغاز 'انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔
پاکستان انڈیا انڈس واٹرکمیشن کے مابین دو روزہ مذاکرات اسلام آباد میں شروع ہوگئے ہیں۔ انڈین انڈس واٹر کمشنر پی کے سکسینا دس رکنی انڈین وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کے انڈس واٹر کمشنرز کی سطح کے مذاکرات میں دریائے چناب پر تین متنازع آبی منصوبوں پکال گل، لوئر کلنائی کے ڈیزائن پر بات چیت کی جا رہی ہے۔ جبکہ واشنگٹن میں اپریل میں ہونے والے سیکرٹری سطح کے مذاکرات میں کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ گیارہ اپریل سے واشنگٹن میں ورلڈ بنک کی زیر نگرانی کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان سیکریٹری سطح کے مذاکرات پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔واضح رہے کہ انڈیا کی طرف سے دریائے نیلم کے پانی پر 330 میگاواٹ کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850 میگا واٹ کے رتلے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے۔ ان دونوں منصوبوں پر پاکستان نے اعتراضات اٹھائے اور ورلڈ بینک کو ثالثی کرنے کے لیے رجوع بھی کیا تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان آبی تنازعات پر بات چیت میں عالمی بنک اور امریکہ نے کردار ادا کیا۔اسلام آباد میں ہونے والے دوروزہ مذاکرات میں انڈیا کے طرف سے پاکستان کی جانب چھوڑے جانے والا بارش کا پانی اور اس کی صحیح مقدار اور معلومات سے متعلق بھی بات چیت کی جائے گی۔