ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر نصب قومی علامت کے ڈیزائن پر تنازعہ؛ مودی حکومت پر قومی علامت کے تقدس کو پامال کرکے ڈیزائن تبدیل کرنے کا الزام

پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر نصب قومی علامت کے ڈیزائن پر تنازعہ؛ مودی حکومت پر قومی علامت کے تقدس کو پامال کرکے ڈیزائن تبدیل کرنے کا الزام

Wed, 13 Jul 2022 12:19:02    S.O. News Service

نئی دہلی ،13؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کو پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر قومی علامت ’اشوک کی لاٹ‘ کی نقاب کشائی کی مگر وہ اپنی ڈیزائن کی وجہ سے تنازعات کی زد پر آگئی ہے۔ الزام ہے کہ مودی حکومت نے قومی علامت کے تقدس کو پامال کرتے ہوۓ اس کا ڈیزائن تبدیل کر دیا ہے جس میں شیر پروقار نظر آنے کے بجاۓ جارح اور پر تشددنظر آرہے ہیں۔اس کے علاوہ اس بات پر بھی تنقیدیں   ہورہی ہیں کہ علامت کے ساتھ’’ ستیہ میوجیتے ‘‘ نہیں لکھا ہوا ہے جو اس کا حصہ ہے۔ تنازعہ اس بات پر بھی ہے کہ وزیراعظم مودی نے اس کا اجراء کیا جو حکومت ( عاملہ ) کے سر براہ ہیں جبکہ عمارت قانون سازوں(مقننہ) کی ہے اس لئے اجراء کا حق اسپیکر کا تھا۔ اجراء کی تقریب میں پوجا پاٹھ بھی تنقیدوں کی زد پر ہے جو سیکولر ہندوستان کے بنیادی اصولوں کے ہی منافی ہے۔ واضح رہے کہ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس اسی نئی عمارت میں ہوگا۔

علامت کی ڈیزائن پر تنازع:  پیر  کو پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر اشوک ستون کی تنصیب کے بعد منگل کو ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بغیر کسی تبصرہ کے دو تصاویر ٹویٹ کیں ۔ایک تصویر پرانے اشوک کی لاٹ کی ہے جبکہ نئی تصویر اس اشوک کی لاٹ کی ہے جو مودی حکومت نے پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر نصب کروائی ہے۔ ٹی ایم سی کے راجیہ سبھا کے رکن جواہر سرکار نے بھی دونوں تصویر میں شیئر کرتے ہوۓ اسے قومی علامت کی تو ہین قرار دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مودی نے جس اشوک ستون کا اجراء کیا ہے اس میں شیر غیر ضروری  طور پر جارح اور پرتشدد نظر آرہے ہیں جبکہ اصل اشوک کی لاٹ کے شیر پرسکون ، باوقار اور پوری طرح سے پر اعتمادنظر آرہے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ پر لگائے گئے اشوک استمبھ کو فوری طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔

’آدم خوروں اور سب کچھ نگل جانے کا تاثر‘:  آر جے ڈی نے اور بھی زیادہ واضح تبصرہ کرتے ہوئے منگل کو کئے گئے ٹویٹ میں کہا ہے کہ’’ اصل مجسمے میں وقار اور اعتدال کے تاثرات تھے جبکہ امرت کال( آزادی کی 75  ویں سال گرہ کی بنا پر مودی حکومت موجود و دور کوامرت کال کہتی ہے ) میں بنے اصل مجسمے کی نقل میں انسان، آباؤاجداد اور ملک کا سب کچھ نگل جانے کا آدم خور تاثر نظر آرہا ہے۔ آر جے ڈی نے کہا کہ ”ہر علامت انسان کی اپنی سوچ کو ظاہر کرتی ہے۔ انسان علامتوں کے ذریعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کی فطرت کیسی ہے۔ اس بیچ عام آدمی پارٹی نے بھی قومی علامت میں تبدیلی پر تنقید کرتے ہوۓ اسےاس کی تو ہین قرار دیا ہے۔ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے کہا کہ میں عوام سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ قومی علامت کو تبدیل کرنے والوں کو قوم مخالف کہنا چاہئے یا نہیں؟ کانگریس نے اس بات کی مذمت کی ہے کہ قومی علامت کے ساتھ ’ستیہ میو جیتے‘ نہیں لکھا ہوا ہے۔ اس نے اسے تحریر کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپوزیشن کو مدعونہ کرنے پر تنقید: اپوزیشن نے وزیراعظم کے ہاتھوں نئی عمارت پر اشوک کے ستون کی نقاب کشائی کی مذمت کرتے ہوۓ کہا ہے کہ’’ آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے جو عاملہ اور مقننہ کے اختیارات کو الگ الگ بیان کرتا ہے۔

واضح رہے کہ عاملہ سے مراد حکومت اور مقننہ سے مراد پارلیمنٹ جس میں اپوزیشن اور حزب اقتدار دونوں کے اراکین شامل ہیں،ہے۔لوک سبھا میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے وزیراعظم کے ہاتھوں اشوک کی لاٹ کی علامت کے افتتاح کے موقع پر اپوزیشن لیڈروں کو نہ بلانے پر تنقید کرتے ہوۓ کہا کہ پارلیمنٹ اور قومی علامت ہندوستان کے عوام کی ہے، کسی فرد واحد کی نہیں۔“ انہوں نے مودی کیلئے شہنشاہ کا استعارہ استعمال کرتے ہوۓ کہا کہ تصور کیجئے کہ اگر تمام پارٹیوں کے لیڈر افتتاح کے وقت موجود ہوتے اور آئینی قدروں کی بالادستی کا عزم کرتے مگر اس سے کہیں ہمارے شہنشاہ کی تصویر متاثر نہ ہوجاتی ۔“

عاملہ اور مقننہ کے اختیارات خلط ملط:  کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے پارلیمنٹ کی عمارت پر اشوک کے ستون کا افتتاح وزیراعظم کے ہاتھوں ہونے پر اعتراض کرتے ہوۓ کہا کہ ”آئین جمہوریت کی تینوں شاخوں عاملہ (حکومت)، مقننہ پارلیمنٹ اور اسمبلیاں) اور عدلیہ کو واضح طور پر الگ الگ کرتا ہے۔ وزیراعظم عاملہ کے سر براہ ہیں۔مقننہ (پارلیمنٹ ) کو آزادانہ طور پر اپنے فرائض انجام دینے ہوتے ہیں جو قانون سازی اور حکومت کی جوابدہی طے کرنا ہے۔ تینوں شاخوں کے الگ الگ اختیار کو حکومت خلط ملط کر رہی ہے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی سی پی ایم نے اشوک ستون کے اجراء کی تقریب میں مذہبی پروگرام کی بھی مذمت کی۔

پوجا پاٹھ پر اعتراض:  پارٹی نے کہا کہ ’’قومی علامت کی تنصیب کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہئے تھا۔  یہ قومی علامت ملک کے ہر شہری کی ہے، صرف ان کی نہیں ہے جومخصوص مذہبی عقائد کے حامل ہیں۔ مذہب کو قومی سرگرمیوں سے دور رکھیں ۔ ‘‘اس کی تائید دیگر حلقوں نے بھی کی۔

اجراء اسپیکر کا حق تھا:اویسی :  آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے نشاندہی کی کہ پارلیمنٹ کی عمارت پر اشوک ستون کے اجراء کا حق اسپیکر کا تھا۔ان کے مطابق’’ آئین عاملہ، مقننہ اور عدلیہ کے اختیارات کو الگ الگ کرتا ہے۔ وزیراعظم جو عاملہ (حکومت) کے سربراہ ہیں، انہیں پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر قومی علامت کا اجرا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ لوک سبھا کی نمائندگی اسپیکر کرتے ہیں، جو حکومت کے پابند نہیں ہیں۔ وزیراعظم نے آئینی اصولوں کو پامال کر کے رکھ دیا ہے۔‘‘ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ جواہر سرکار نے حکومت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جولوگ اس عمارت کو استعمال کریں گے،انہیں تو پوچھا بھی نہیں گیا۔


Share: