بارہ بنکی، 25؍اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)قومی درج فہرست ذات کمیشن کے صدر پی ایل پنیا نے ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کردینے والے روہت ویمو لا خودکشی سانحہ کی عدالتی کمیشن کی تحقیقات میں اس ریسرچ اسکالر کے دلت نہ ہونے کے مبینہ دعووں کو غلط ٹھہراتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز میں حکمران بی جے پی کے جھوٹے دعووں پر مہر لگوانے کا ہتھکنڈہ ہے۔پنیا نے کل شام نامہ نگاروں سے کہا کہ بی جے پی کے وزیر تو شروع سے ہی ویمو لا کو دلت کے بجائے دیگر پسماندہ طبقے کا فرد بتا رہے ہیں اور اسی لیے ایسا انکوائری کمیشن تشکیل دیا گیا جو ان کی بات پر مہر لگا سکے۔انہوں نے کہا کہ گنٹور کے ضلع کلکٹر اور قومی درج فہرست ذات کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ویمو لا دلت ہی تھا، اس لیے عدالتی کمیشن کی بات پوری طرح غلط ہے۔کانگریس کے راجیہ سبھا رکن نے کہا کہ یہ کیسا عدالتی کمیشن ہے جس نے ویمو لا کی خود کشی کرنے کی وجوہات اور کانگریس کی طرف سے اٹھائے گئے دیگر سوالوں کو چھوڑ کر اس کی ذات پر ہی تبصرہ کردیا ۔اسے ایسا کرنے کا حق بھی نہیں ہے، ذات کے بارے میں بتانے کا حق ضلع کلکٹر اور ریونیو بورڈ کو ہے۔بارہ بنکی لوک سبھا سیٹ سے ممبر پارلیمنٹ رہ چکے پنیا نے کہا کہ ویمو لا کی خود کشی کا معاملہ انتہائی افسوس ناک بات ہے اور اس ریسرچ اسکالر کو خود کشی کے لیے مجبور کرنے والے لوگوں کی شناخت کرکے انہیں سخت سزا دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں کسی بھی شخص کے ساتھ ایسے واقعات نہ ہوں ۔