بنگلورو،25/مارچ(ایس اونیوز/صدیق آلدوری) موجودہ صورتحال میں اگر اقتدار میں خواتین کو زیادہ موقع دیاجائے اور اہم ملازمتوں پر بھی خواتین کا ہی تقرر کیاجائے تو ممکن ہے کہ اس ملک میں رشوت خوری کا خاتمہ ہو۔جرائم اور بدعنوانیوں کے کریمنل ریکارڈ کا اگر جائزہ لیا جائے توپتہ چلتا ہے کہ رشوت خوری اور بدعنوانیوں کے معاملات میں مردوں کے مقابلے عورتوں کی تعداد بہت ہی کم ہے۔ یہ بات آج یہاں ویلفیر پارٹی آف انڈیا بنگلور کی جانب سے پارٹی کی ویمنس ونگ کے قیام اور بہتر سماجی خدمت انجام دینے والی خاتون، ینٹر پرینرس کو تہنیت پیش کرنے منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ویلفیر پارٹی آف انڈیا کے صدر اڈپی کے اکبر علی نے کہی، انہوں نے کہا کہ عورت ہر معاملہ میں مرد کی برابری کرسکتی ہے۔ مگر مرد چند معاملات میں عورت کی برابری نہیں کرسکتا۔اس ملک میں وزیراعظم کی حیثیت سے شریمتی اندرا گاندھی نے جس طرح کی بہترین حکومت عوام کو دی تھی اس کی مثال نہیں ملتی۔ مرد کے سارے کام عورت کرسکتی ہے، لیکن مرد عورت کا مقام حاصل نہیں کرسکتا۔عورت کو ایک ماں کا درجہ حاصل ہے وہ 9ماہ تک اپنے بچہ کو پیٹ میں پالتی ہے۔ اسے جنم دیتی ہے، پال پوس کر بڑا کرتی ہے لیکن مرد اس حق سے محروم ہے۔ ویلفیر پارٹی آف انڈیا نے آج خواتین کی ونگ قائم کی ہے۔ یہ پارٹی سماج کے تمام طبقات اور مذہب کے ماننے والوں کو یکساں حقوق دے کر سب کو ساتھ لے کر چلنے والی پارٹی ہے۔ آج کے زنگ آلود سماجی وسیاسی نظام کو بہتر بنانے کے مقصد سے اس پارٹی کا وجود ہوا ہے۔ اس ملک میں آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ10فیصد افراد کے پاس ہر طرح کی سہولت اور اختیارات ہیں جبکہ90فیصد عوام ان حقوق اور سہولتوں سے محروم ہیں۔ مالدار دن بدن مالدار بنتا جارہاہے اور غریب کا معیار زندگی ہر دن گھٹ رہاہے ۔ اس عدم توازن کو ختم کرنا ڈبلیو پی آئی کا عزم ہے۔کچھ لوگوں نے عوام کی خدمت کے بدلے سیاست اور ووٹ کو اپنا بزنس بنالیا ہے اور اسے ایک پیشہ کی طرح اپنارہے ہیں۔ ووٹ کے لئے غریب ووٹر کو رقم دے کر وہ عہدہ حاصل کرکے ان کی خدمت کے بدلے اپنا لگایاگیاسرمایہ سود سمیت حاصل کرنے کے کام میں لگ گئے ہیں۔ آج اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمان بھی خریدی کے لئے موجود ہیں۔ سیاسی نظام میں خدمت کرنے والوں سے زیادہ قتل اور دیگر معاملات میں جیل گئے ہوئے اور غنڈہ گردی کے لئے بدنام سماج دشمن عناصر کی تعداد زیادہ ہے۔ جسے جیل جانا ہے وہ حکومت چلارہے ہے اور جنہیں حکومت کرنی ہے انہیں جیل بھیجاجارہاہے۔ سیاسی نظام میں آج اچھے کردار اور اخلاق والوں کو موقع ملنا چاہئے۔10؍انگلیوں کوجوڑکر ہم تالی بجاسکتے ہیں لیکن ایک انگلی سے بھی ہم سماج کے آنسو پونچھ سکتے ہیں ایسی انگلی کی آج ضرورت ہے۔ سابق ریاستی وزیر صدر ویلفیر پارٹی آف انڈیاٹی بی للیتا نائک نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ آج مسلم خواتین بھی کنڑازبان میں بات کرنے اور تقریر کرنے کے قابل بن گئی ہیں۔کنڑا زبان میں پیغام پہنچانے کی آج اس ریاست میں ضرورت بھی ہے۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ مسلم سماج خود کو ایک جزیرہ کی طرح محدود رکھ کر زندگی گزارتا ہے ،انہیں یہ سوچ بدل کر قومی دھارسے میں آکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کی زبان کنڑا سیکھ کر اس کا باقاعدہ استعمال بھی کرنا ہے اور قومی دھارے میں خود کولانا ہوگا۔ آج ذات فرقہ اور بھگوان کا نام لے کر اور عورت اور مرد کے درمیان دیوار کھڑی کی جارہی ہے۔ امبیڈ کر کے بنائے گئے دستور میں عوام کو حاصل حقوق کی مالی ہورہی ہے۔ انسانوں کے کھانے کا حق چھیناجارہاہے۔ اس ملک میں ہر ایک کو جینے اور زندگی گزار نے کا حق حاصل ہے۔وہ اپنی پسند کی چیز کھاسکتا ہے اور اپنی عبادت کرسکتا ہے۔ اس پروگرام کے دوران بے مثال خدمت انجام دینے والی خواتین تزئیں عمر(ہیومن ٹچ) جے سمترا، طلعت یاسمین عقیلہ، قمر سلطانہ کو ایوارڈ پیش کئے گئے ۔بنگلورو ضلع ڈبلیو پی آئی کے صدر حبیب اللہ خان سکریٹری طاہر حسین وغیرہ نے بھی خطاب کیا۔