ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / وقف ایکٹ نہ رہا تو اوقافی املاک کو بچانا ناممکن ہوجائے گا:سپریم کورٹ

وقف ایکٹ نہ رہا تو اوقافی املاک کو بچانا ناممکن ہوجائے گا:سپریم کورٹ

Wed, 21 Sep 2022 11:38:41    S.O. News Service

نئی دہلی، 21؍ ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) وقف قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر ایک عرضی کی سماعت کے دوران عرضی گزار کی طرف سے وقف ایکٹ کے آئینی جواز کو چیلنج کئے جانے پر سپریم کورٹ نے سخت تبصرہ کرتے ہوئے عرضی گزار کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کو ناقابل عمل قرار دیا-

جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس رشی کیش رائے پر مشتمل ڈویژنل بنچ نے وقف ایکٹ کا چیلنج کئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے عرضی گزار کے وکیل رنجیت کمار کو اس بات پر متوجہ کروایا کہ کل اگر کسی نے ہندو مذہبی مقامات کی نگرانی کرنے والے ہندو اینڈومنٹس کے مختلف قوانین کو چیلنج کیا تو اس پر عرضی گزار کا موقف کیا ہوگا- وکیل رنجیت کمار نے کہاکہ 10 اکتوبرکو اس معاملے پر اگلی سماعت کے دوران وہ سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کی وضاحت کرنے کی کوشش کریں گے -

عرضی گزار نے کہاکہ وقف املاک کے انتظامیہ کو چلانے کی آڑ میں اس طرح کا قانون بنایا گیا ہے جب کہ ہندو بدھسٹ کیلئے ایسا کوئی قانون نہیں ہے - اس لئے وقف قانون ہندوستان کے سکیولرزم اور یکجہتی کے خلاف ہے - عدالت نے اس پر تبصرہ کیا کہ وقف بورڈ بھی ایک قانونی ادارہ ہے اورکوئی بھی املاک وقف بورڈ کے ماتحت نہیں ہوتی - اگر وقف بورڈیا اس جیسے دیگر قوانین کو مسترد کردیا گیا تو اوقافی زمینات پر قبضہ کرنے والوں کیلئے اور آسانی ہوجائے گی-وقف قانون کے نہ رہتے ہوئے اوقافی املاک پر قبضوں کو خالی کروانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوجائے گا-

وقف املاک کو وقف بورڈ سے الگ کردینے وکیل کے اصرار پر جسٹس جوزف نے کہا کہ وقف املاک کی نگرانی صرف مسلمان کررہے ہیں، ان کی نگرانی میں امتیاز کی شکایت بے بنیاد ہے - اگر وکیل کی دلیل کو مان لیا جائے تو اوقاف پر قبضہ کرنے والے جھوم اٹھیں گے اور ساتھ ہی بہت سارے حلقوں میں یہ مانگ ہے کہ ہندو املاک کی نگرانی کو ختم کردیا جائے - عرضی گزار نے اپنی بات رکھتے ہوئے کہا کہ وقف ایکٹ کے تحت یہ لازمی ہے کہ وقف بورڈ کے ممبران مسلمان ہوں - اس پر عدالت نے تبصرہ کیا کہ عرضی گزار کو چاہئے کہ وہ اپنے مذہب کی فکر کریں - مذہبی بنیاد پر امتیازات کو اس طرح سے ہوا دینے کی کوشش نہیں ہونی چاہئے- وقف قانون اس ملک سے منظور شدہ ایک قانون ہے، جس کا مقصد اوقافی زمینات کی حفاظت کرنا ہے، اگر اس قانون کو ختم کردیا گیا تو اس سے فائدہ اوقاف پر غیر قانونی قبضہ کرنے والوں کو ہی ہوگا- جج نے کہا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ عرضی گزار اس معاملے کو اتنی تنگ نظری سے دیکھتے ہیں -


Share: