بنگلور:30/دسمبر(ایس او نیوز)بحیثیت وزیر اعلیٰ گجرات مودی نے سہارا گروپ سے جو چالیس کروڑ روپیوں کی رشوت لی ہے ان الزامات کے پیش نظر مودی کو عہدہئ وزیر اعظم سے مستعفی ہوجاناچاہئے تھا۔ یہ بات آج اے آئی سی سی جنرل سکریٹری پرتھوی راج چوہان نے کہی۔ اخباری نمائندوں سے با ت چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جس وقت حوالہ معاملہ سامنے آیا بی جے پی کے سرکردہ رہنما ایل کے اڈوانی نے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اپنی لوک سبھا رکنیت سے استعفیٰ دیاتھا، لیکن مودی اتنے اخلاقی آدمی نہیں ہیں اسی لئے ان سے ایسے اخلاق کی توقع بھی نہیں کی جانی چاہئے۔ نوٹ بندی کے اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مٹھی بھر امیروں کو فائدہ پہنچانے کیلئے وزیراعظم نے ملک کے کروڑوں غریبوں کو مشکلات میں ڈال دیا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے کئے گئے نوٹ بندی کے یکطرفہ فیصلے کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے ذریعہ جانچ ہونی چاہئے اور یہ جائزہ لینا چاہئے کہ نوٹ بندی کے فائدے اور نقصانات کیا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ سہارا کمپنی کی ڈایریوں میں مودی کے نام کی موجودگی کے علاوہ کانگریس کی سینئر رہنما شیلا ڈکشت اور دوسروں کے تمام ناموں کے بارے میں تفصیلی جانچ کرائی جائے تاکہ سچائی سامنے آسکے۔ انہوں نے کہاکہ نوٹ بندی کے فائدے اور نقصانات کا ملک کی اعلیٰ ترین سطح پر اگر جائزہ لیا جائے تو یہی بات سامنے آئے گی کہ 8 نومبر کو مودی نے ملک میں کالے دھن کا خاتمہ کرنے کا عہد کیا تھا، لیکن نوٹ بندی کے باوجود کالے دھن پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوسکی۔کالا دھن بھی ختم نہیں ہوا اور نقلی نوٹوں کا کاروبار بھی ختم نہیں ہوا۔اس کے برعکس خانہ دار خواتین، رعیت، عام آدمی سب کے سب بینکوں میں جمع اپنی رقم واپس نکالنے کیلئے پچھلے 55دنوں سے قطاروں میں کھڑے ہوئے ہیں۔ مودی نے ملک کے عوام کو فٹ پاتھ کا بنادیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو بلانقد معاشی نظام بنانے مودی کا اعلان عملی طور پر ناممکن ہے۔اب بھی اس ملک میں 98 فیصد لین دین نقد ہی کی شکل میں کیا جاتاہے۔ چین میں 90 فیصد، برازیل میں 85فیصد اور امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی 52 فیصد لین دین نقد میں ہوتا ہے۔ان حالات میں راتوں رات ملک کو بلانقد بنانے وزیراعظم کا اعلان حمقات نہیں تو اور کیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ملک میں ڈجیٹل نظام اب تک چھ لاکھ دیہاتوں میں سے کتنے دیہاتوں تک پہنچ پایا ہے اس کا جواب مودی کو دینا چاہئے۔ملک کی آبادی 125کروڑ ہے، لیکن ان میں سے صرف چھ سات فیصد لوگوں کے پاس ہی اسمارٹ فون موجود ہیں۔ راتوں رات نوٹ بندی کا دعویٰ اور ملک کے 98فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہونے کا جھوٹ اب ہضم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں نوٹ بندی کا اقدام اگر کالے دھن کے خاتمہ کیلئے ہے تو خوش آئند ہے، لیکن مودی نے ملک کے عوام سے 50 دن کی مہلت طلب کی تھی کہ حالات سدھر جائیں گے۔50 دن گزر گئے، سدھار تو دور کی بات حالات اور بگڑرہے ہیں۔ مودی اس معاملے میں عوام سے کئے گئے ہر وعدہ میں جھوٹے ثابت ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نوٹ بندی کے سلسلے میں مرکزی حکومت کو چاہئے کہ تمام پہلوؤں پر مشتمل ایک قرطاس ابیض جاری کرے۔انہوں نے مودی سے پانچ سوال کئے کہ 8نومبر کے بعد ملک بھر میں کتنا کالا دھن پکڑا گیا، نوٹ بندی کے سبب ملک کو ہوا معاشی فائدہ اور نقصان کتنا رہا۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے چھ ماہ کے دوران بینکوں میں 25 لاکھ سے زیادہ رقم کس کس نے جمع کی یہ تمام تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں اور نوٹ بندی سے قبل اور فوراً بعد بڑے بڑے سودے کن کن لوگوں نے کئے وہ بھی منظر عام پر لایا جائے۔اس موقع پر سابق مرکزی وزیر سدرشن ناچی اپن، کے پی سی سی کارگذار صدر دنیش گنڈو راؤ، نائب صدر بی ایل شنکر، وی آر سدرشن، این ایس بوس راج اور دیگر لیڈران موجود تھے۔