نئی دہلی،18؍ جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی) ملک کے 16ویں صدرجمہوریہ کا انتخاب پیرکو (آج) ہوگا۔این ڈی اے کی امیدوار دروپدی مرمو اور اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا کے درمیان براہ راست مقابلہ ہے۔صدارتی انتخابات کیلئے پارلیمنٹ ہاؤز اور ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں ووٹنگ ہوگی۔ ووٹنگ صبح 10 بجے شروع ہوگی اور شام 5 بجے ختم ہوگی۔ صدارتی انتخاب اتفاق سے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن ہو رہا ہے۔الیکشن کیلئے تمام ضروری تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور بیلٹ پیپر اور بیلٹ باکس کو سخت سکیورٹی میں رکھا گیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی 21 جولائی کو ہوگی۔صدارتی انتخاب،الیکٹورل کالج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے منتخب اراکین اور تمام ریاستوں کی قانون ساز اسمبلیوں کے منتخب اراکین پر مشتمل ہوتا ہے، بشمول قومی دارالحکومت علاقہ دہلی اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ پڈوچیری۔ صدارتی انتخاب خفیہ رائے شماری سے ہوگا اور کوئی پارٹی وہپ جاری نہیں کرے گی۔انتخابات کیلئے راجیہ سبھا کے سکریٹری جنرل پی سی مودی کو ریٹرننگ آفیسر بنایا گیا ہے جبکہ قانون ساز اسمبلیوں کے جنرل سکریٹریوں کو اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر بنایا گیا ہے۔کمیشن نے انتخابات کے دوران پولنگ اور گنتی کے نظام کی نگرانی کیلئے 37 مبصرین کا تقرر کیا ہے۔ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی قانون ساز اسمبلیوں میں واقع 30 پولنگ اسٹیشنوں میں سے ہر ایک پر پولنگ کی نگرانی کیلئے ایک مبصر اور پارلیمنٹ ہاؤز کیلئے دو مبصر تعینات کیے گئے ہیں۔کل 776 ممبران پارلیمان اور 433 / اسمبلی ممبر اس بار الیکشن میں حصہ لے سکیں گے۔ نامزد اراکین کو صدر کے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اندراج صرف دہلی میں کیا جا سکتا ہے۔ ووٹنگ صرف پارلیمنٹ اور قانون ساز اسمبلیوں میں کرائی جائے گی۔ اسسٹنٹ یا سیکنڈ اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر بیلٹ بکس دہلی پہنچائیں گے۔الیکشن کیلئے تمام ایم ایل اے کے ووٹوں کی کل ویلیو 543231/ اور ایم پی اے کے ووٹوں کی کل ویلیو 543200 ہوگی۔ یعنی صدارتی انتخاب میں ووٹوں کی کل ویلیو 1086431 ہوگی۔ تمام ووٹرز کیلئے لازمی ہوگا کہ وہ بیلٹ پیپر میں پہلی ترجیح کا اندراج کریں۔ دوسری ترجیح کی ریکارڈنگ اختیاری ہوگی۔ ہندوستان میں تسلیم شدہ کسی بھی زبان میں ترجیح ریکارڈ کی جا سکتی ہے۔انتخابی عمل 24 جولائی تک مکمل ہو جائے گا۔ موجودہ صدر رام ناتھ کووند کی پانچ سالہ میعاد 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔