نئی دہلی، 24؍جولائی(ایس او نیوز؍ایجنسی) الیکشن کمیشن نے ادھو ٹھاکرے اور ایکناتھ شنڈے کی قیادت والے شیو سینا کے دونوں گروپوں سے پارٹی کے انتخابی نشان پر ان کے دعوؤں کی حمایت میں آٹھ اگست تک اپنی دستاویز جمع کرانے کو کہا ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقوں سے دستاویز جمع کرانے کیلئے کہا گیا ہے، جن میں پارٹی کی قانون اور تنظیمی اکائیوں سے حمایتی خط اور مخالف گروپوں کے تحریری بیان شامل ہیں۔
اس ہفتے شیو سینا کے شنڈے گروپ نے کمیشن کو خط لکھ کر پارٹی کا دھنش-بان انتخابی نشان اسے دینے کی گزارش کی تھی۔ شنڈے گروپ نے اس کیلئے لوک سبھا اور مہاراشٹر اسمبلی میں اسے ملی منظوری کا حوالہ دیا تھا۔ واضح رہے کہ شیو سینا گزشتہ ماہ تب دو گروپوں میں تقسیم ہوگئی تھی، جب اس کے دو تہائی سے زیادہ اراکین اسمبلی نے ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی مہاراشٹر حکومت سے بغاوت کردی تھی اور شنڈے کی حمایت کی تھی۔
شنڈے نے 30 جون کو بی جے پی کے تعاون سے مہارشٹر کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا تھا۔ گزشتہ منگل کو لوک سبھا میں شیو سینا کے 18 میں سے کم از کم 12 / اراکین پارلیمنٹ نے ایوان کے لیڈر ونائک راوت کے تئیں عدم اعتماد ظاہر کیا تھا اور راہل شیوالے کو اپنا لیڈر اعلان کیا تھا۔ لوک سبھا اسپیکر نے اسی دن شیوالے کو لیڈر کے طور پر منظوری دے دی تھی۔
یہ یقینی بنانے کیلئے کہ کوئی بھی گروپ اطلاع سے محروم نہ رہے، الیکشن کمیشن نے گزشتہ دو دنوں میں دونوں گروپوں کے ذریعہ سونپی گئی دستاویز کی شیئرنگ کی ہدایات دی ہیں۔ انتخابی نشان سے متعلق دعویٰ اس لئے اہم مانا جا رہا ہے، کیونکہ سپریم کورٹ نے بدھ کو مہاراشٹر کے ریاستی الیکشن کمیشن کو دو ہفتے کے اندر مقامی بلدیاتی انتخابات کیلئے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا تھا۔مہاراشٹر میں برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی)سمیت کئی بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں۔