ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاراشٹرا کا سیاسی بحران سپریم کورٹ پہنچ گیا؛ باغی ارکان اسمبلی کو نا اہلی کی نوٹسوں کے مسئلہ پر شنڈے کی درخواست کی آج سماعت

مہاراشٹرا کا سیاسی بحران سپریم کورٹ پہنچ گیا؛ باغی ارکان اسمبلی کو نا اہلی کی نوٹسوں کے مسئلہ پر شنڈے کی درخواست کی آج سماعت

Mon, 27 Jun 2022 11:08:09    S.O. News Service

ممبئ27 / جون (ایس او نیوز/ایجنسیز ) مہاراشٹرا کا سیاسی بحران سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے ۔شیوسینا کے باغی قائدا یکنا تھ شنڈے نے ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے باغی ارکان اسمبلی کو جاری کردہ نا اہلی کی نوٹسوں کو چیلنج کرتے ہوۓ ایک رٹ درخواست داخل کی ہے ۔ یہ نوٹسیں اس لیے جاری کی گئی ہیں تا کہ انحراف کے سلسلہ میں دستور کے شیڈول کے تحت باغی ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی کی جاسکے ۔ جسٹس سوریا کانت اور جسٹس بے بی پارودی والا پرمشتمل تعطیلاتی بینچ آج اس معاملہ کی سماعت کرے گی ۔ شنڈے نے کل (26 جون کو ) شام تقریباً6:30 بجے درخواست داخل کی ہے، جس کے ذریعہ ڈ پٹی اسپیکر نر ہری زروال کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کی نوٹس کو مسترد کیے جانے کو چیلنج کیا گیا ہے ۔

زروال کا تعلق نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی ) سے ہے ۔ ڈپٹی اسپیکر نے نا اہلی کی نوٹسیں جاری کی ہیں ، کیوں کہ مہاراشٹرا قانون ساز اسمبلی میں اسپیکر کا عہدہ مخلوعہ ہے ۔سپریم کورٹ میں داخل کی گئی درخواست میں دلیل پیش کی گئی ہے کہ ڈپٹی اسپیکر کی جانب سے اجئے چودھری کوشیوسینا بیلیچر پارٹی (ایس ایس ایل پی ) کا لیڈ رتسلیم کیا جانا غیر قانونی ہے ۔ ایکنا تھ شنڈے کا دعوی ہے کہ انہیں شیوسینا کے دوتہائی ارکان اسمبلی کی تائید حاصل ہے۔انہوں نے التجا کی ہے کہ نااہلی کی نوٹسوں پر کارروائی کو اس وقت تک روک دیا جانا چاہیے جب تک کہ ڈپٹی اسپیکر کو ہٹانے کے مسئلہ پر کوئی فیصلہ نہیں ہو جا تا ۔اس درخواست کے چند اہم نکات حسب ذیل ہیں: (1) ڈپٹی اسپیکر انہیں ہٹاۓ جانے کے قرارداد کے زیر التوا ر ہنے تک دستور کے دسویں شیڈول کے تحت کسی بھی رکن کو نااہلی کی نوٹس جاری نہیں کر سکتے ۔ (2) نر ہری زروال این سی پی سے استعفی دیئے بغیر ڈ پٹی اسپیکر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ این سی پی کی سرگرمیوں میں بھی سرگرم حصہ لے رہے ہیں ۔

شیوسینا کی آئیڈیالوجی ، این سی پی کی آئیڈیالوجی کے برعکس ہے ۔اسی لیے زروال سیاسی طور پر جانبدار ہیں اور ان سے کسی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ فیصلہ کی توقع نہیں ہے ۔ (3) ناہلی کی نوٹسیں قابل قبول نہیں ہیں ، کیوں کہ محض پارٹی کے میٹنگ سے غیر حاضر رہنا نا اہلی کی بنیادنہیں ہوسکتا۔ پارٹی کی جانب سے جاری کردہ وہپ صرف ایوان کے اندر کارروائی پر قابل اطلاق ہے ۔(4) شنڈے نے زور دے کر کہا کہ انہوں نے اور ان کے حامیوں نے شیوسینا کی رکنیت ترک نہیں کی ہے اور ان کی سرگرمیاں دستور کے دسویں شیڈول کے دوسرے پیراگراف کے تحت رضا کارانہ طور پر رکنیت ترک کر دینا کی تعریف میں نہیں آتیں ۔(5) پارٹی کے بیشتر ارکان نے بہر حال سنیل پر بھو کے چیف وہپ کی حیثیت سے تقر رکو کالعدم قرار دیا ہے اور اس کے بجاۓ انہوں نے بھرت گوگا والے کو چیف وہپ مقر رکیا ہے ،لہذا سنیل کی جانب سے جاری کردہ وہپ جائز نہیں ۔


Share: