نئی دہلی 9اکتوبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) بی جے پی کے صدر امیت شاہ کے بیٹے جے شاہ کی کمپنی کے بارے میں ایک ویب سائٹ ’ دی وائر ‘ کی رپورٹ دعوی کیا گیا تھا کہ ایک سال میں صرف 50000 روپے کی کمپنی نے محض ایک سال میں 80,00,00,000. کی شرح نمو بن گئی ۔ اس رپورٹ کے بعد جہاں بی جے پی ویب سائٹ ’ دی وائر ‘ پر حملہ آور ہے اور کہہ رہی ہے کہ شاہ کے بیٹا ویب سائٹ ’ دی وائر ‘ پر مجرمانہ ایکٹ کے تحت ڈیفی میشن کا مقدمہ دائر کریں گے ۔ معاملہ کی نزاکت کے لحاظ سے کانگریس پارٹی بھی بی جے پی پر حملہ کر رہی ہے ۔ کانگریس پارٹی اب بی جے پی کے رہنماؤں کو براہ راست کئی پلیٹ فارم سے اپنی تنقید کا ہدف تصور کر رہی ہے۔ راہل گاندھی کے سرکاری ٹویٹر ہینڈل سے ایک ٹوئٹ کیا گیا ہے ، جس میں براہ راست ایم پی مودی پر حملہ کیا گیا ہے ۔ اس ٹوئٹ میں راہل گاندھی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ’’ جے شاہ کچھ زیادہ کھا گیا ،آپ حصہ دار تھے یا محافظ؟ کچھ تو بولیں ! ‘‘ اس ٹویٹ کے ذریعے، راہل گاندھی نے اس معاملے میں وزیراعظم مودی کی خاموشی پر بھی سوال کیا ۔ اس تنقیدی عمل میں راہل گاندھی نے مودی کے ذریعہ استعمال کئے جانی والی اصطلاح ’’ چوکیدار‘‘ پر بھی نشانہ سادھا اور جم کر اس لفظ کے ذریعہ سوال کیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے این ڈی اے حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بی جے پی صدر امت شاہ کے بیٹے کی کمپنی کے کاروبار میں ہوئی بے تحاشہ مبینہ شرح نمو سے متعلق میڈیا میں گشت کر رہی خبروں کو لے کر تفتیش کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔واضح ہو کہ جے شاہ بھائی کی کمپنی نے ایک سال کے اندر ہی 1600فیصدی شرح نمو کا اضافہ کیا جب کہ یہ کمپنی 2014سے پہلے تک معاشی خسارہ کا شکار تھی ؛ لیکن 2015-16کے بعد اس کمپنی نے شرح نمو میں 1600فیصدی کا اضافہ کرکے سبھی معاشی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ جس کے تناظر میں سینئر کانگریسی رہنما راہل گاندھی ، کپل سبل اور ماکپا کے معروف لیڈر سیتا رام یچوری نے بھی اس واقعہ کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے ۔