ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منی پور تشدد: پھر فائرنگ، انٹرنیٹ پر پابندی میں 25 جون تک توسیع، مودی اپنے فرائض کی انجام دہی میں رہے ناکام :کانگریس کا الزام

منی پور تشدد: پھر فائرنگ، انٹرنیٹ پر پابندی میں 25 جون تک توسیع، مودی اپنے فرائض کی انجام دہی میں رہے ناکام :کانگریس کا الزام

Thu, 22 Jun 2023 23:34:37    S.O. News Service

امپھال ، 22/جون(ایس او نیوز/ایجنسی) پی ایم مودی اپنے ریاستی دورہ امریکہ کے دوران اسکالرز، ادیبوں اور سرمایہ کاروں سے ملاقات کر رہے ہیں۔ اس پر کانگریس نے بدھ کو کہا کہ وہ بحران کے وقت منی پور کو جان بوجھ کر نظر انداز کر کے وزیر اعظم کے طور پر اپنے فرض کی انجام دہی میں پوری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ایک ٹوئٹ میں وزیر اعظم پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کے امریکی دورے کے بارے میں تمام خبروں کے درمیان، آئیے ہم خود کو یاد دلائیں کہ آج منی پور میں درد، پریشانی اور تکلیف کا لگاتار 50 واں دن ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ کئی مسائل پر درس دینے والے وزیر اعظم نے ریاست کے اتنے بڑے سانحے پر ایک لفظ تک نہیں بولا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو ملاقات کا وقت نہیں دیا۔ نہ ہی انہوں نے اس بارے میں کوئی اشارہ دیا ہے کہ وہ اس کے بارے میں کیا کر رہے ہیں یا انہیں اس کی کوئی پرواہ ہے!جے رام رمیش نے کہا کہ وہ بحران کے وقت منی پور کو جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کا انتخاب کر کے ہندوستان کے وزیر اعظم کے طور پر اپنے فرض کی انجام دہی میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ منی پور کے حوالے سے ان کا رویہ انتہائی حیران کن اور ناقابل فہم ہے۔

ان کے یہ تبصرے پی ایم مودی کے منگل کو امریکہ روانہ ہونے کے ایک دن بعد آئے ہیں۔ مودی نے اپنے دورہ امریکہ کے پہلے دن نیویارک میں اسکالرز، ادیبوں اور سرمایہ کاروں سے ملاقات کی۔کانگریس کی قیادت میں تشدد سے متاثرہ منی پور میں 10 اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے منگل کو وزیر اعظم پر شمال مشرقی ریاست کے لوگوں کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تکلیف اور مایوسی ہوئی ہے۔کانگریس نے منی پور تشدد پر وزیر اعظم کی خاموشی پر تنقید کی ہے۔ کانگریس نے منگل کو وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی شبیہ کو بہتر بنانے کے لیے مہم چلانے کے بجائے راج دھرم پر عمل کریں۔

منی پور میں گزشتہ 50 دنوں سے جاری تشدد میں کسی طرح کی کمی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔ جب بھی ایسا لگتا ہے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں، کسی نہ کسی جگہ سے فائرنگ یا آتشزنی واقعہ کی خبر سامنے آ جاتی ہے۔ آج پھر منی پور کے کچھ علاقوں میں کئی راؤنڈ فائرنگ کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ کشیدہ حالات کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اسکولوں کو یکم جولائی تک بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر عائد پابندی کو بھی 25 جون تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تشدد کی وجہ سے منی پور کے کئی اضلاع میں اب بھی کرفیو نافذ ہے۔

مقامی افسران کے ذریعہ دی گئی جانکاری کے مطابق بدھ کے روز منی پور ایسٹ کے تھنگ جنگ علاقہ میں آٹومیٹک اسلحوں سے 15 سے 20 راؤنڈ گولیاں چلی ہیں۔ علاوہ ازیں منگل کی دیر شب کانگ چپ علاقہ میں گیل جینگ اور سنگڈا میں بھی رہ رہ کر فائرنگ ہوئی۔ حالانکہ ان گولیوں سے کسی کی موت یا زخمی ہونے کی اطلاع ابھی تک موصول نہیں ہوئی ہے۔ گولی باری کے بعد آسام رائفلز کے جوان جائے حادثہ پر پہنچ کر علاقے کی تلاشی کر رہے ہیں، تاکہ پتہ لگایا جا سکے کہ گولی سے کوئی زخمی ہوا ہے یا نہیں، یا پھر کسی کی موت ہوئی ہے یا نہیں۔

قابل ذکر ہے کہ منی پور میں 3 مئی کو تشدد کی شروعات ہوئی تھی۔ اس وقت سے لے کر اب تک تقریباً 150 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ منی پور میں کشیدہ حالات کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ تشدد شروع ہونے کے بعد سے اب تک ریاست میں انٹرنیٹ پر پابندی لگی ہوئی ہے۔ حکومت نے بدھ کے روز ایک بار پھر اس پابندی میں توسیع کرتے ہوئے 25 جون تک کے لیے آگے بڑھا دی ہے۔

منی پور میں جاری تشدد کو لے کر اپوزیشن پارٹیاں لگاتار مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت پر حملہ آور ہیں۔ خصوصاً کانگریس روزانہ وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کر رہی ہے کہ منی پور معاملہ پر اپنی خاموشی کو توڑیں، لیکن ابھی تک پی ایم مودی نے کچھ بھی نہیں کہا ہے۔ اپوزیشن لیڈران لگاتار یہ بیان دے رہے ہیں کہ پی ایم مودی کو کم از کم ریاستی عوام سے امن کی اپیل کرنی چاہیے۔


Share: