اڈپی 3اکتوبر (ایس او نیوز) منی پال کارکلا ہائی وے پر پیش آنے والے حادثے میں ایک سالہ بچہ فوت ہونے کے بعد عوام نے اس شاہراہ کی بدحالی اور اس ضمن میں ریاستی و مرکزی حکومت کے بے پروائی کے خلاف اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ بتا یا گیا ہے کہ بار بار توجہ دلانے کے باوجود شاہراہ کی مرمت نہ کرنے کی وجہ سے ہونے والے حادثات اور اموات کو جائے حادثہ پر جمع عوام اور مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں نے سرکاری قتل سے تشبیہ دی اور اپنے غصہ کو ظاہر کیا۔
تازہ حادثہ اُس وقت پیش آیا جب منی پال سے ہیریڈکا کی طرف جانے کے دوران ایک شوہر اور بیوی اپنے ایک سالہ بچے کے ساتھ بائک پر سفر کرنے کے دوران حادثہ پیش آیا۔ بتایا گیا ہے کہ راستے پر پڑے ہوئے ایک گڈھے میں ان کی بائک کا پہیہ پڑنے سے معصوم بچہ ہاتھ سے پھسل کر نیچے جاگرا اور سر کو چوٹ لگنے سے بچے کی موت واقع ہوگئی۔
خیال رہے کہ اس سڑک کی توسیع کے نام پر گزشتہ 10برسوں سے کام ہورہا ہے۔ سڑک تنگ ہونے کے ساتھ ساتھ تعمیری کام کے لئے کھودے گئے گڈھے او ر مٹی کے ڈھیر ٹریفک میں مزید خلل پیدا کرتے ہیں۔سڑک کی توسیع کے لئے اطراف میں موجود دکانیں خالی کروانا ضروری ہے۔ گزشتہ چند دنوں قبل ضلع انچارج وزیر پرمود مدھوراج نے یہاں پہنچ کر معائنہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ چونکہ یہ ایک نیشنل ہائی وے ہے اس لئے اس کی توسیع کرنے کے سلسلے میں خالی کروائی جانے والی دکانوں کا معاوضہ مرکزی حکومت کو ادا کرنا ہے۔ معاوضے کی رقم ڈپازٹ ہونے پر ہی ریاستی حکومت دکانیں خالی کروانے کا کام آگے بڑھا سکتی ہے۔جبکہ اس سے قبل سڑک کی مرمت کے سلسلے میں رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے نے کہا تھا کہ بارش کے موسم میں مرمت کا کام ہو نہیں سکتا، بارش ختم ہونے کے بعد اس پر تارکول بچھانے کا کام شروع کیا جائے گا۔اس کے علاوہ سوشیل ورکر نتیا نند نے بھی اس سڑک کی بدحالی کے خلاف کئی مرتبہ انوکھے انداز میں احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ محکمہ جات کی توجہ اس جانب مبذول کروانے کی کوشش کی تھی۔