ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ممبئی کے کئی مسلم علاقوں میں جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ شرپسندی؛ مارپیٹ، توڑپھوڑ؛ 13 گرفتار، حالات زیر قابو

ممبئی کے کئی مسلم علاقوں میں جئے شری رام کے نعروں کے ساتھ شرپسندی؛ مارپیٹ، توڑپھوڑ؛ 13 گرفتار، حالات زیر قابو

Tue, 23 Jan 2024 10:31:57    S.O. News Service

ممبئی 23 جنوری(ایس او نیوز) ایودھیا میں بابری مسجد والی جگہ پر رام مندر کی تعمیر کے بعد مندر کے افتتاح کے دوران ملک کے کئی علاقوں میں سنگھ پریوار اور بی جے پی کارکنان کی طرف سے جشن منایا گیا وہیں بعض علاقوں میں کانگریس اور دیگر لیڈران کے ہاتھوں مختلف علاقوں میں رام مندر کا افتتاح کیا گیا۔ ایسے موقعوں پر کئی لوگ بھگوا جھنڈوں کے ساتھ کئی اقلیتی علاقوں میں گھسنے کی بھی واقعات پیش آئ۔ بعض شرپسندوں نے جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے بالخصوص مسلمانوں کو اکسانے کی بھی کوشش کی مگر اکثر علاقوں میں مسلمانوں نے صبر وتحمل سے کام لیا البتہ بعض جگہوں پر جوابی کاروائی کے نتیجے میں مسلم نوجوانوں کے خلاف معاملات درج کئے گئے۔ اسی طرح کی وارداتیں ممبئی اور اطراف کے کئی مسلم علاقوں میں بھی پیش آئیں۔ پتہ چلا ہے کہ اتوار کی شب کے ساتھ ساتھ پیر کی شب کو بھی مہاراشٹرا کے ضلع تھانے کے بعض علاقوں میں مبینہ طور پر بھگوا جھنڈوں والی گاڑیاں گھسنے اور جئے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کو اکسانے کی کوشش کی گئی اور مبینہ طور پر ان سواریوں پر ایک گروپ کے ذریعے حملہ کرنے کے بعد تیرہ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔

خبروں کے مطابق ممبئی کے مختلف علاقوں میں پیش آئے شر پسندی کی واقعات کے بعد پولس کی فوری کارروائی سے حالات خراب نہیں ہونے پائے۔ فی الحال ان علاقوں میں حالات پر امن بتائے گئےہیں۔ پولس نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔

ممبئی سے شائع ہونے والے معروف اردو روزنامہ انقلاب کی رپورٹ کے مطابق اتوار کی شب اندھیری کے ملت نگر میں شرانگیزوں نے اشتعال انگیز نعرے بازی کی پھر ۳۰ بلڈنگوں پر مشتمل ہاؤسنگ سوسائٹی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اس موقع پرچند نوجوان جو چہل قدمی کر رہے تھے، انہوں نے موٹر سائیکل کی مدد سے اندر داخل ہونے سے روک دیا اور انہیں واپس بھیجا۔ اس سلسلے میں کہا گیا ہے کہ مقامی لوگوں کی طرف سے پولیس میں شکایت کرنے اور انہیں سی سی ٹی وی فوٹیج اور ویڈیوز دکھانے کے بعد بھی پولیس نے عذر پیش کیا اور کہا کہ قافلہ راستہ بھٹک گیا تھا اس لئے ان کے خلاف کوئی معاملہ درج نہیں کیا گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق علاقہ کے فیڈریشن کی جانب سے اب پولیس کو تحریری شکایت دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اور شکایت درج نہ کرنے کی صورت میں عدالت سے رجوع ہونے کا منصوبہ بنایا ہے۔

اتوار کی شب کو ہی ساڑھے بارہ بجے میرا روڈ کے مسلم اکثریتی علاقے نیا نگر کے لودھا روڈ پر بھی کچھ لوگ اشتعال انگیز نعرے لگاتے ہوئے گزر رہے تھے جس پر چند مقامی افراد نے اعتراض کیا پھر  ان کے ساتھ مار پیٹ کی نیز ان کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے جس کی اطلاع فوری  پولیس کو دی گئی۔ اور اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کیا۔ شب میں پولیس نے فلیگ مارچ کیا۔ اس موقع پر پولیس کے اعلیٰ افسران موجود تھے۔ نیا نگر میں پولیس کا سخت بندوبست کیا گیا ہے اور سڑکوں پر غیر ضروری طور پر کھڑے لوگوں سے اپنے اپنے گھر جانے کی اپیل کی۔ نیا نگر میں جگہ جگہ پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ پتہ چلا ہے کہ اقلیتی فرقے کے دس افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ ۳۰۷ کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ 

اس موقع پر مقامی رکن اسمبلی پر تاپ سر نائک نے پولیس کمشنر سے ملاقات کر کے خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا، بصورت دیگر ۲۵ جنوری کو بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے اور میرا بھائندر بند کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ علاقے کے رکن اسمبلی پرتاپ سر نائک نے پولیس کمشنر مدھو کر پانڈے سے ملاقات کی اور انہیں مکتوب سونپا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ واقعہ کے وقت وہاں دو سو افراد موجود تھے، ان لوگوں کی تلاش کیلئے پولیس فوری طور پر کومبنگ آپریشن کرے اور انہیں گرفتار کرے۔ ہم نے پولیس کو ۴۸ گھنٹے کی مہلت دی ہے۔ میرا بھائندر مدارس و مساجد فیڈریشن کے صدر اقبال مہاڑک نے بتایا کہ ایک وفد نے نیا نگر پولیس اسٹیشن میں مکتوب دیا تھا اور ماحول خراب کرنے کی کوشش کو روکنے کا مطالبہ کیا تھا مگر اتوار کی شب کو چند شر پسندوں نے ماحول کو خراب کیا ۔ ہم نے ڈی سی پی اور سینئر انسپکٹر سے بات کر کے پولیس کا پہرہ لگوایا ہے۔ ڈی سی پی جینت بجبلے اور سینئر انسپکٹر ولاس سوپے کے تال میل سے حالات خراب ہونے سے بچ گئے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور صبر سے کام لیں۔

 سد بھاونا منچ میرا روڈ کے ذمہ داران نے ایک ویڈیو پیغام جاری کر کے عوام سے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم رکھنے  کی درخواست کی۔پورے دن اقلیتی فرقے کے افراد پولیس اسٹیشن کے باہر جمع رہے اور بے قصور افراد کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا مطالبہ کیا جس پر پولیس نے بے قصوروں پر کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

اس سے قبل سنیچر کے روز سیکوریٹی فورس کے اہلکاروں نے کلیان اور ڈومبیولی میں فلیگ مارچ نکال کر امن و امان اور بھائی چارہ کی فضاء قائم رکھنے کی اپیل کی تھی، باوجود اس کے کلیان کے مسلم اکثریتی علاقوں میں شر پسندوں نے نعرے بازی کر کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ کچھ لوگوں نے مسجد کے باہر شر انگیز نعرے لگانے والوں کو پہلے سمجھانے کی کوشش کی گئی، بعد ازاں دونوں گروپ میں مار پیٹ شروع ہو گئی۔ دریں اثناء محلہ کے سرکردہ افراد نے وہاں پہنچ کر حالات کو مزید بگڑنے سے بچالیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس کے اعلیٰ افسران بھی جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ جس کے بعد شیوسینا، بی جے پی، بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے سیکڑوں کارکنان بازار پیٹھ پولیس اسٹیشن پر جمع ہو کر مسلم نو جوانوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے لگے۔

رام مندر کے افتتاح کی خوشی میں فرقہ پرست عناصر بائیک اور کاروں پر زعفرانی پرچم لگا کر دن بھر پورے شہر میں گھومتے رہیں۔ اس دوران دو پہر تقریباً ایک بجے ۱۸ سے ۱۰ کاروں کا قافلہ پولیس کے روکنے کے باوجود چراغ ہوٹل کی سمت بڑھا۔ اور عین ظہر کی نماز کے وقت بعض شرپسندوں نے مسجد کے باہر جئے شری رام کے نعرے لگانے شروع کر دئیے۔ جس کے نتیجے میں نماز کے فوری بعد  بعض لوگوں نے شرپسندوں کی گاڑیوں کے شیشے توڑ دئے۔ فی الحال پولس نے حالات پر قابو پالیا ہے اور حالات پرامن ہیں۔


Share: