ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / مشال خان قتل کیس، مرکزی ملزم تاحال مفرور

مشال خان قتل کیس، مرکزی ملزم تاحال مفرور

Thu, 27 Apr 2017 21:26:59    S.O. News Service

اسلام آباد،27اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کی طرف سے پاکستان کی عدالت عظمٰی کو بتایا کہ عبدالوالی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کے قتل کے مقدمے کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی ازسر نو تشکیل کی گئی ہے۔صوبائی ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ کو مشال خان کے قتل سے متعلق اب تک ہونے والی تفتیش سے بھی آگاہ کیا۔عدالت کو بتایا گیا کہ ازسر نو تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم میں فوج کے انٹیلی جنس اداروں ’آئی ایس آئی‘ اور ملٹری انٹیلی جنس کے علاوہ وفاقی تحقیقاتی ادارے ’ایف آئی اے‘ کے نمائندوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں جرنلزم کے طالب علم مشال خان کو توہین مذہب کے الزام پر مشتعل افراد نے 13 اپریل کو یونیورسٹی ہی میں بدترین تشدد کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے مشال کے قتل کا از خود نوٹس لیا تھا اور صوبائی پولیس کو حکم دے رکھا ہے کہ وہ اس بارے میں تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ رکھے۔جمعرات کو اسی سلسلے میں صوبائی ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کی طرف سے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی۔جس میں بتایا گیا کہ اب تک 36 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، لیکن مرکزی ملزم اب تک مفرور ہے۔عدالت عظمٰی نے اب تک تحقیقات کے دوران ہونے والے شواہد مزید تجزیے کے لیے لاہور میں قائم ’فرانزک لیبارٹری‘ میں بجھوانے کا حکم دیا۔سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے انسپکٹر جنرل پولیس صلاح الدین پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ مشال خان اور اْن کے دو دیگر ساتھیوں عبداللہ اور زبیر پر جو الزامات لگے اْن کے بارے میں شواہد نہیں ملے ہیں۔جب کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی کہہ چکے ہیں کہ مشال خان کے خلاف ’سازش‘ کی گئی۔
 


Share: