بنگلورو، 28/اپریل (ایس او نیوز /ایجنسی) خشک سالی میں راحت کے طور پر مرکزی حکومت کے ذریعے جاری مطالبے سے بہت کم فنڈ کے خلاف کرناٹک حکومت نے سخت احتجاج کیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کے احاطے میں بابائے قوم مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے سامنے وزیر اعلیٰ سدارمیا و نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار کی قیادت میں آج (27 اپریل) یہ احتاج کیا گیا، جبکہ کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری و کرناٹک کانگریس کے انچارج ردنیپ سنگھ سرجے والا بھی اس میں شریک ہوئے۔
اس احتجاج کے موقع پر ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ستمبر 2023 میں خشک سالی سے متعلق امداد کے لیے مرکز کو ایک میمورنڈم دیا تھا۔ اس میمورنڈم کے دیئے جانے کے بعد یعنی ستمبر سے اب تک ریاست کو 50 ہزار کروڑ روپئے کا مزید نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے منریگا کے تحت بھی پیسہ نہیں دیا ہے اور کسی کو کام نہیں ملا ہے۔ مرکز کو یہ فنڈ جاری کرنا ہوگا، اس کے لیے ہماری جدو جہد جہاری رہےگی۔
نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ سپریم کورٹ کی سرزنش کے بعد مرکزی حکومت نے تین ہزار کروڑ روپے کا امدادی فنڈ جاری کیا ہے۔ یہ فنڈ مشکلات کے وقت جاری ہونا چاہیے تھا کیونکہ کچھ دنوں بعد بارش شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت کی گارنٹی نہیں ہوتی تو اب تک لوگوں کا جینا محال ہو چکا ہوتا۔ ہم نے لوگوں کی زندگیاں بچائیں، کانگریس کی گارنٹیوں سے 4 کروڑ سے زائد لوگوں نےفائدہ اٹھایا۔
ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ ہم عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے پر مجبور ہوئے کیونکہ انہوں (مرکز) نے وفاقی ڈھانچے کا احترام نہیں کیا۔ ہم بھیک نہیں مانگ رہے ہیں، ہم نے کسانوں کو 2-2 ہزار روپئے دیئے ہیں اور پینے کے لیے پانی کا انتظام کیا ہے۔ ہم ہمارا حق مانگ رہے ہیں۔ واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے ہفتہ (27 اپریل) کو کرناٹک کے لیے 3,454 کروڑ روپے کی خشک سالی کا امدادی پیکیج جاری کیا ہے۔ بی جے پی کی ریاستی اکائی نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ کانگریس نے اس رقم کو 18,000 کروڑ روپے کی اپنی مانگ سے بہت کم بتایا ہے۔