نئی دہلی:23/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)2018ء میں وزارت ثقافت نے دستاویزات سازی ، مسودات کے تحفظ اور ان کی حفاظت وڈیجیٹل کاری کے لیے ایک مشن موڈ پروجیکٹ نیشنل مشن فار مینسکرپٹ یعنی قومی مشن برائے مخطوطات(این ایم ایم)کی شروعات ہوئی تھیں۔اب تک این ایم ایم نے 43.16لاکھ مخطوطات کی دستاویزات سازی کی ہے، مخطوطات کے 434.56لاکھ فولیوزکو محفوظ کیاہے،2.96لاکھ مسودات کے 283لاکھ صفحات کی ڈجیٹل کاری کی ہے اور 44نایاب اور غیر مطبوعہ مسودات کوشائع کیاہے۔2003ء میں اپنے قیام سے لے کر 31مارچ 2018ء تک وزارت ثقافت نے 9666 لاکھ روپے جاری کیے ہیں، جس میں سے 9544لاکھ روپے اس کام پرخرچ کیے جاچکے ہیں۔جن مسودات کی این ایم ایم نے دستاویز سازی اورڈیجیٹل کاری کی ہے، انہیں تحقیق کا کام کرنے والوں اور اسکالروں کو ایک ٹرسٹیڈ ڈجیٹل ریپوزیٹری کے توسط سے دستیاب کرایا جائے گا۔اس مشن کا حتمی مقصد آئی جی این سی اے پر ایک ڈجیٹل مینسکرپٹس ریپوزیٹری قائم کرنا ہے، جس میں ہمارے ماضی کو جامعیت کے ساتھ سمجھنے کے لیے تحقیق کا کام کرنے والے اور اسکالرس مسودات کو دیکھ سکیں اور ان سے استفادہ کرسکیں۔مذکورہ تفصیلا ت ثقافت کے وزیر مملکت(آزادانہ چارج)، ڈاکٹر مہیش شرما نے آج لوک سبھا میں ایک غیر ستارہ شدہ سوال کے جواب میں بتائیں۔