ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / غزہ : اسکول میں نماز ِفجر کے دوران بمباری،100 سے زائد شہید

غزہ : اسکول میں نماز ِفجر کے دوران بمباری،100 سے زائد شہید

Sun, 11 Aug 2024 12:09:27    S.O. News Service

غزہ، 11/اگست (ایس او نیوز /ایجنسی) سنیچر کو علی الصباح غزہ کے ایک اسکول میں اسرائیل کی انتہائی ظالمانہ اور شدید بمباری میں 100 سے زائد فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔ حملے کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاکہ اسکول کے پورے احاطے میں انسانی اعضاء بکھر گئے ۔ خبر لکھے جانے تک 93 اموات کی تصدیق کی گئی ہے مگر انسانی اعضاء کی تعداد کو دیکھتے ہوئے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے۔ داعیٔ اجل کو لبیک کہنے والوں میں خواتین اور بچوں  کی بھی  خاصی تعداد شامل ہے۔ 

جس اسکول کو نشانہ بنایاگیا اسے پناہ گزیں  کیمپ کے طور پر استعمال کیا جارہاتھا۔ جس وقت حملہ کیاگیا اس وقت اسکول سے متصل مسجد میں باجماعت نماز ادا کی جارہی تھی۔ عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی فوج نے نمازیوں پر ہزاروں کلو وزنی ۳؍ بم برسائے۔  حماس کے زیر انتظام  شہری دفاع کے محکمے کے ترجمان محمود باسل نے بتایا کہ ’’اب تک93سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں 11بچے اور 6خواتین ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب تک کئی  شہداء کی شناخت نہیں ہو پائی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوج کی جانب سے اس تعداد پر شک و شبہ کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اس حملے میں اسکول کے اندر موجود حماس کے کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔  اسرائیلی فوج نے بتایاکہ یہ اسکول ایک مسجد کے ساتھ واقع ہے، جو غزہ   کے بے گھر ہونے والے افراد کیلئے پناہ گاہ کے طور پر استعمال کی جا رہی ہے۔ 

غزہ میں حماس کے زیر انتظام وزارت صحت کے مطابق’’ یہ10ماہ سے غزہ میں جاری جنگ کے دوران کئے گئے مہلک ترین اسرائیلی حملوں میں سے ایک تھا۔‘‘اس حملے کے بعد کی ویڈیوز میں متاثرہ اسکول میں زمین پر انسانی اعضا بکھرے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ لوگ کمبلوں میں  لاشوں کو لے جاتے ہوئے نظرآرہے ہیں۔ بچاؤ کام  میں شامل ایک عینی شاہد ابو انس کے مطابق ’’یہ حملہ بغیر کسی پیشگی وارننگ کے  اس وقت کیا گیا، جب لوگ اسکول کے اندر واقع ایک مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے۔‘‘ عینی شاہد نے بتایا کہ ’’وہاں لوگ نماز پڑھ رہے تھے، کچھ لوگ  نہا رہے تھے اور اوپری منزل پر لوگ سو رہے تھے، جن میں بچے، عورتیں اور بوڑھے شامل  ہیں۔‘‘

حماس کے ترجمان محمود باسل کے مطابق اس اسکول میں غزہ جنگ کے دوران بے گھر ہونے والے تقریباً ۳۵۰؍ خاندانوں نے پناہ لی ہوئی  ہے۔ اس سے قبل انہوں نے بتایا تھا کہ 3میزائل اسکول اور مسجد کے اندر گرے، جہاں تقریباً2 ہزار بے گھر افراد  پناہ  لیے ہوئے تھے۔ انہوں نے  بتایا کہ ’’بغیر کسی وارننگ کےعام شہریوں پر میزائل  داغے گئے۔ پہلا میزائل گرا اور پھر دوسرا۔ (جس کے بعد) ہم نے انسانی  اعضاء  اکٹھا کرنے  پر مجبور ہوگئے۔‘‘

 یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اسرائیل کے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے ایک خصوصی نمائندہ نے حملے کو نسل کشی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ تل ابیب الگ الگ علاقوں پر الگ الگ وقتوں میں اس طرح کے حملے کرکے نسل کشی کی کارروائی کو انجا م دےرہا ہے۔ مصر، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، ترکی اور فرانس نے بھی  حملے کی مذمت کی ہے۔ 

 فلسطینی پناہ گزینوں کیلئےکام کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی کے سربراہ فلپ لازارینی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ  ’’اب وقت آ گیا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے پیش آنے والے یہ ہولناک واقعات بند ہوں۔‘‘ غزہ کے اسکول پر حملہ ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے، جب امریکی، قطری اور مصری ثالثوں نے جنگ بندی کے معاہدے کیلئے دونوں فریقوں یعنی اسرائیل اور حماس پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔

غزہ میں واقع اسکول پناہ گزیں کیمپوں کی طرح استعمال ہورہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ۶؍جولائی تک غزہ کے564  میں سے477 اسکول جنگ کے دوران براہ راست حملوں نشانہ بنائے جا چکے تھے۔ ۷؍ اکتوبر سے شروع کئے گئے ان حملوں  میں اس خبر کے لکھے جانے تک  39 ہزار 490فلسطینی جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد ۹۲؍ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس بیچ اقوام متحدہ کی ذیلی ایجنسی نے بتایا  ہے کہ گزشتہ چند دنوں میں خان یونس سے۷۰؍ فلسطینیوں کو اسرائیلی فوج بے گھر کرچکی ہے۔ 


Share: