ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / علاقائی جماعتوں کا مستقبل یوپی کے نتائج پر منحصر،مودی انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام : دیوے گوڑا

علاقائی جماعتوں کا مستقبل یوپی کے نتائج پر منحصر،مودی انتخابی وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام : دیوے گوڑا

Thu, 09 Mar 2017 10:30:57    S.O. News Service

بنگلورو ،8؍مارچ (ایس او نیوز ) سابق وزیراعظم و جنتادل ایس کے قومی صدر ایچ ڈی دیوے گوڑا نے کہا کہ علاقائی جماعتوں کا مستقبل اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے نتائج پر منحصر ہے ۔ انہوں نے کہا اگر بی جے پی اترپردیش میں اپنی طاقت کی بنیاد پر اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہی تو علاقائی جماعتوں کا مستقبل ملک میں تابناک نہیں رہے گا کیوں کہ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں کامیابی سے بی جے پی مزید مستحکم ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی علاقائی جماعتوں کو علاقائی مسائل حل کرنے چاہئے اور اس بات کو یقینی بنانا چاہئے کہ متعلقہ ریاستوں کی بہ حیثیت مجموعی ترقی ہو ۔سابق وزیراعظم نے ریاست میں دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی بی جے پی میں شمولیت کے مسئلہ پر کہا کہ بی جے پی میں کئی ذہین لیڈر ہیں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے لیڈر جو بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں تو حتمی فیصلہ سے پہلے دو مرتبہ سوچنا چاہئے ۔انہوں نے سابق وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کو مشورہ دیا کہ وہ بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے دو مرتبہ سوچ لیں۔اگرچہ کہ سابق سینئر کانگریسی لیڈر کرشنا جنہوں نے حال ہی میں پارٹی چھوڑدی تھی ' کسی سیاسی جماعت میں شمولیت کے اپنے فیصلے کا کھلے عام انکشاف نہیں کیا تھا تاہم بی جے پی کے ریاستی صدر بی ایس یڈ یورپا نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی تھی اور پارٹی میں شمولیت کے لئے انہیں سرکاری طور پر دعوت دی تھی۔ اس پر انہوں نے رضامندی ظاہر کی۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم کرشنا ایک پختہ سیاست داں ہیں اور وہ ایک بہتر منتظم ہیں۔ میں کرشنا کو بی جے پی میں شامل نہ ہونے کا مشورہ دینے کا اہل نہیں ہوں ۔ بنگلور کے پریس کلب کے زیراہتمام صحافت سے ملاقات پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے دیوے گوڑا نے ایس ایم کرشنا کو مشورہ دیاکہ وہ بی جے پی میں شامل ہونے سے پہلے محتاط رہیں ۔کیوں کہ دیگر سینئر لیڈر جنہوں نے کانگریس چھوڑکر اس پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی ' کو ان کے مرتبہ کے لحاظ سے مکمل فائدہ اٹھانے کے بعد نظرانداز کردیا گیا اور انہیں چھوڑدیا گیا۔ انہوں نے آنجہانی وزیراعلیٰ بنگارپا اور دوسرے آنجہانی سینئر کانگریسی لیڈر راج شیکھر مورتی کی مثالیں دیں جنہوں نے مختصر مدت کیلئے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی جن کا بی جے پی نے اپنے مقصد کیلئے استعمال کیااور انہیں نظرانداز کردیا۔ انہو ں نے کہا '' میرا مقصد جے ڈی ایس جیسی علاقائی جماعت کو اپنی خود کی طاقت کی بنیاد پر کرناٹک میں برسراقتدار لانا ہے کیوں کہ کانگریس اور بی جے پی جیسی قومی جماعتوں کا مظاہرہ مناسب نہیں رہا۔ہم پارٹی کے کرناٹک یونٹ کے صدر ایچ ڈی کمارا سوامی کی شبیہہ کا استعمال کریں گے، تاکہ رائے دہندوں کو راغب کیا جائے اور وہ 2018کے ریاستی انتخابات میں ہماری جماعت کو اکثریت دے سکیں۔'' انہوں نے واضح کیا کہ وہ جے ڈی ایس میں خاندانی سیاست کے حامی نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیٹے کمارا سوامی کو ریاست کے عوام نے وزیراعلیٰ بنایا تھا۔وہ فلمیں بنانے اور ان کے ڈسٹری بیوشن کے ذریعہ کنڑ فلم انڈسٹری میں مقبول ہوئے ۔ میں اب انہیں وزیراعلیٰ دوبارہ بنانا چاہتا ہوں کیوں کہ 20ماہ کے عرصہ کے دوران انہو ں نے وزیراعلیٰ کے طور پر بہترین کام انجام دیا۔ کسی بھی وزیراعلیٰ نے اتنا بہترین کام انجام نہیں دیا۔گوڑا نے دعویٰ کیا کہ قومی سیاسی جماعتیں ریاستوں کے مفادات کے تحفظ میں ناکام ہوگئی ہیں ۔عوام کو ملک میں اسمبلی انتخابات میں ووٹ دینے سے پہلے اس حقیقت کو سامنے رکھنا چاہئے ۔ انہوں نے وزیراعظم کی بات چیت کی مہارت کی ستائش کرتے ہوئے تین دنوں تک وارانسی میں روڈ شوز کے ا ہتمام پر سوال اٹھایا اور کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی لوک سبھا کے انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کا یقین نہیں رکھتے اگر وہ ڈھائی برس کی حکمرانی پر بھروسہ رکھتے تو پھر انہوں نے تین دنوں تک وارانسی میں روڈ شوز کیوں کئے ؟ ا نہو ں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم مودی برسراقتدار آنے سے پہلے انتخابات میں کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے ۔ انہو ں نے کہا '' اسٹارٹ اپ ' میک ان انڈیا جیسی اسکیمات کے حقیقی فائدے ان افراد تک نہیں پہنچے جن کیلئے یہ بنائی گئی تھی۔ آیا مودی وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب رہے؟ ۔''انہوں نے الزام لگایا کہ نہ ہی بی جے پی اور نہ ہی آر ایس ایس کی حمایت سے مودی وزیراعظم بنے بلکہ گجرات کے 5سرکردہ کارپوریٹس کے سبب وہ وزیراعظم بنے ۔ بعدازاں بی جے پی کی اعلیٰ قیادت سے رائے لئے بغیر آر ایس ایس نے رضامندی کے ساتھ ان کی حمایت کی جس سے وہ وزیراعظم بنائے گئے ،لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کا یہ بہانا سیاسی منظر میں طویل عرصہ تک برقرار نہیں رہے گا۔ ایک سوال کے جواب میں گوڑا نے تاہم کہا کہ دو قومی جماعتوں کو شکست دینے کیلئے تیسری طاقت کو مستحکم کرنے کی ان کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہوپائی ہیں۔


Share: