نئی دہلی، 29/مئی (ایس او نیوز/ایجنسی) وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا صدرجمہوریہ اورتقریباً 20اپوزیشن پارٹیوں کی عدم موجودگی میں افتتاح کیا -اس موقع پر ملک کے نام وقف کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ملک کی مالا مال ثقافت، فن، فخر، ثقافت اور آئین کی آواز ہے اور یہ نئی عمارت، نئے ہندوستان کی امنگوں کی عکاسی کرتی ہے -وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت ہم سب کو فخر اور امید سے بھر دے گی- انہوں نے تختی کی نقاب کشائی کرکے پارلیمنٹ کی نئی عمارت کو قوم کے نام وقف کیا-
انہوں نے کہا کہ آج کا دن ہم تمام ہم وطنوں کیلئے ناقابل فراموش دن ہے - پارلیمنٹ کی نئی عمارت ہم سب کو فخر اور امید سے بھردینے والی ہے - مجھے پورا یقین ہے کہ یہ شاندار اور عظیم عمارت عوام کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کی خوشحالی اور صلاحیت کو نئی رفتار اور طاقت فراہم کرے گی-انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کی نئی عمارت جمہوریت کو نئی توانائی اور نئی طاقت دے گی- ہمارے مزدوروں نے اپنے پسینے سے اس پارلیمنٹ ہاؤز کو اتنا عظیم الشان بنایا ہے، اب یہ ہم ارکان پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی لگن سے اسے مزید شاندار بنائیں -
اتوار کو نئے پارلیمنٹ ہاؤز کا افتتاح کرنے کے بعد مسٹرمودی نے کہا کہ ایک قوم کے طور پر سبھی140کروڑ ہندوستانیوں کا عزم ہی اس نئی پارلیمنٹ کی جان ہے - اس میں کیا گیا ہر فیصلہ آنے والی نسلوں کو بااختیار بنائے گا اور یہ فیصلے ہندوستان کے روشن مستقبل کی بنیاد بنیں گے -انہوں نے کہاکہ یہ صرف ایک عمارت ہی نہیں ہے - یہ140کروڑ ہندوستانیوں کی امنگوں اور خوابوں کی عکاسی کرتی ہے - یہ ہماری جمہوریت کا مندر ہے جو دنیا کو ہندوستان کے عزم کا پیغام دیتا ہے -
وزیر اعظم نے کہاکہ اس عمارت میں وارثت بھی ہے، فن تعمیر بھی ہے،اس میں ہنرمندی بھی ہے، ثقافت کے ساتھ ساتھ آئین کی آواز بھی ہے - ہماری جمہوریت ہی ہماری تحریک ہے، ہمارا آئین ہمارا عزم ہے - اس عزم کی بہترین نمائندہ، ہماری یہ پارلیمنٹ ہی ہے -انہوں نے کہا کہ ملک کے پاس امرت کال کے 25سال کا وقت ہے اور ملک کو ترقی یافتہ قوم بنانے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا- وزیراعظم نے کہا کہ ہدف مشکل ہے لیکن سب کو مل کر ایک عزم لینا ہوگا اور اسی کی بنیاد پر کامیابی ملے گی-کامیابی کی پہلی شرط کامیاب ہونے کا یقین ہے، یہ نیا پارلیمنٹ ہاؤز اس یقین کو ایک نئی اونچائی دینے والا ہے، یہ ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں ہم سب کیلئے ایک تحریک بنے گا- یہ عمارت ہر ہندوستانی میں فرض کا احساس پیداکرے گی -برسوں کی غلامی کے بعد بہت کچھ کھونے کے بعد ہندوستان نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیا اور امرت کال تک پہنچ گیا- امرت کال ہمارے ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے ترقی کی نئی جہتیں بنانے کا دور ہے - یہ قوم کو ایک نئی سمت دینے کا امرت کال ہے - یہ ان گنت امنگوں کو پورا کرنے کا امرت کال ہے-ایک ورس کے ذریعے جمہوریت کیلئے نئی جان کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ جمہوریت کے کام کی جگہ یعنی پارلیمنٹ کو بھی نیا اور جدید ہونا چاہیے -وزیر اعظم نے ہندوستان کی خوشحالی اور فن تعمیر کے سنہری دور کو یاد کیا-
انہوں نے کہا کہ صدیوں کی غلامی نے ہم سے اس شان کو چھین لیا-21ویں صدی کا ہندوستان اعتماد سے بھرا ہوا ہے -آج کا ہندوستان غلامی کی ذہنیت کو پیچھے چھوڑ کر فن کی قدیم شان کو اپنا رہا ہے - پارلیمنٹ کی یہ نئی عمارت اس کوشش کی ایک زندہ مثال ہے -اس عمارت میں ورثہ (وراثت) کے ساتھ ساتھ واستو (فن تعمیر)، کلا (آرٹ) کے ساتھ ساتھ کوشل (مہارت)، سنسکرتی (ثقافت) کے ساتھ ساتھ سمویدھان (آئین) کی روح بھی ہیں -
انہوں نے نشاندہی کی کہ لوک سبھا کا اندرونی حصہ قومی پرندے مور اور راجیہ سبھا قومی پھول کمل پر مبنی ہے - پارلیمنٹ کے احاطے میں قومی درخت برگد ہے - نئی عمارت میں ملک کے مختلف حصوں کی خصوصیات کو شامل کیا گیا ہے - انہوں نے راجستھان سے گرینائٹ، مہاراشٹر سے لکڑی اور بدھوئی کے کاریگروں کے قالین کا ذکر کیا- انہوں نے کہا کہ ہم اس عمارت کے ہر ذرے میں ایک بھارت شریشٹھ بھارت کے جذبے کو دیکھتے ہیں - وزیراعظم نے پارلیمنٹ کی پرانی عمارت میں کام کروانے میں ارکان پارلیمنٹ کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کی اور تکنیکی سہولیات کی کمی اور ایوان میں نشستوں کی کمی کی وجہ سے درپیش چیلنجز کی مثال دی-
وزیر اعظم نے کہا کہ نئی پارلیمنٹ کی ضرورت پر کئی دہائیوں سے بات کی جا رہی تھی اور یہ وقت کی ضرورت تھی کہ ایک نئی پارلیمنٹ تیار کی جائے - انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ نیا پارلیمنٹ ہاؤز جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہے اور ہال بھی سورج کی روشنی سے مزین ہیں -نئی پارلیمنٹ کی تعمیر میں تعاون کرنے والے‘شرمکوں ’کے ساتھ اپنی بات چیت کو یاد کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بتایا کہ پارلیمنٹ کی تعمیر کے دوران60,000 شرمکوں کو روزگار دیا گیا اور ان کے تعاون کو اجاگر کرنے کیلئے ایوان میں ایک نئی گیلری بنائی گئی ہے - یہ پہلی بار ہے کہ نئی پارلیمنٹ میں شرمکوں کی شراکت کو امر کر دیا گیا ہے -پچھلے 9سالوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے کہا کہ کوئی بھی ماہر ان9سالوں کو تعمیر نو اور غریب کلیان کے سالوں کے طور پر دیکھے گا-
نئی عمارت کیلئے فخر کی اس گھڑی میں غریبوں کیلئے4کروڑ گھروں کی تعمیر پر بھی وہ اطمینان محسوس کررہے ہیں - اسی طرح وزیر اعظم نے11کروڑ بیت الخلاء، دیہاتوں کو جوڑنے کیلئے 4لاکھ کلومیٹر سے زیادہ سڑکیں، 50ہزار سے زیادہ امرت سروور، اور 30ہزار سے زیادہ نئے پنچایت بھون جیسے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا- انھوں نے کہا کہ پنچایت بھونوں سے لے کر پارلیمنٹ تک صرف ایک تحریک نے ہماری رہنمائی کی، اور وہ ہے ملک اور اس کے لوگوں کی ترقی-