واشنگٹن26مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکی وزارت خارجہ اوروہائیٹ ہاؤس کے سابق مشیراورترجمان جمال ہلال نے بتایاہے کہ سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعودنے فلسطینی لیڈریاسر عرفات کا اسرائیل کے ہاتھوں جاری محاصرہ اس وقت ختم کرانے کی کوشش کی تھی جب عرفات کو رام اللہ میں ان کے ہیڈ کواٹر کے اندر بند کردیا گیا تھا۔ اس وقت شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزسعودی عرب کے ولی عہدتھے۔جمال ہلال نے ان خیالات کا اظہار ’العربیہ‘ کے فلیگ شپ پروگرام ’سیاسی یاداشتیں‘ میں اظہار خیال کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ شاہ عبداللہ ولی عہد کی حیثیت سے امریکا کیدورے پرآئے اور سابق صدر جارج ڈبلیو بش سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انہوں نے امریکی صدر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ یاسر عرفات کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے اس پردباؤڈالیں۔ایک سوال کے جواب میں وہائیٹ ہاؤس کے سابق مشیر کاکہنا تھا کہ شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز اپنے ساتھ فلسطینی بچوں کی خصوصی تصاویر بھی ساتھ لائے تھے۔ انہوں نے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے بات چیت کے دوران فلسطین کے معاملے بالخصوص فلسیطنی رہ نما یاسر عرفات کی ناکہ بندی ختم کرانے کے لیے زور ڈالا۔ جارج بش نے شہزادہ عبداللہ کے مطالبے کو بجا قرار دیا اور تسلیم کیا کہ فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ فلسطینی لیڈر سے چاہے کسی معاملے میں اختلاف ہو یا اتفاق کیا جائے مگر ان کا محاصرہ کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔ اس مسئلے کا کوئی حل ضرورنکالاجانا چاہیے۔جمال ہلال کا کہنا تھا کہ شہزادہ عبداللہ کے قائل کرنے پر جارج بش قائل ہوگئے تھے۔ اگرچہ فلسطین کامسئلہ اس وقت امریکا اور سعودی عرب کے درمیان بات چیت کا اہم موضوع نہیں تھا۔ امریکا بھی سعودی عرب کے ساتھ مستحکم تعلقات کے قیام کا خواہاں تھا۔ امریکی حکومت کیعہدیداروں نے تمام سعودی شاہی عہدیداروں سے تعلقات استوارکرنے سے اتفاق کیا۔انہوں نے کہا کہ بات چیت کے دوران اچانک شہزادہ عبداللہ نے مسئلہ فلسطین کا موضوع چھیڑدیا۔ انہوں نے امریکی صدر سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ یاسرعرفات کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ انہوں نے خبردارکیاتھاکہ اگر امریکا فلسطینی لیڈر کا محاصرہ ختم کرانے میں دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کرتا تو ریاض اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات متاثرہوسکتے ہیں۔جمال ہلال کاکہنا ہے کہ شہزادہ عبداللہ کی گفتگو سن کر جارج بش قدرے پریشان ہوئے۔اس پرمیں نے انہیں بتایاکہ شہزادہ عبداللہ ناراض ہو کر واپس جانا چاہتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یاسرعرفات کے معاملے میں کوئی عملی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ میں نے بھی صدر بش پر زور دیا تھا کہ وہ اس حل طلب معاملے پر خصوصی توجہ دیں۔