نئی دہلی، 17/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) سپریم کورٹ نے بدھ کے روز مہاراشٹر کے ایوت محل اور چھتیس گڑھ کے ضلع رائے پور کے مجسٹریٹ اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اپنے دائرہ اختیار میں ہندو تنظیم اور بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کی ریلیوں کے دوران نفرت انگیز تقاریر نہ کی جائیں جو اگلے ایک ہفتے کے دوران منعقد ہونے والی ہیں۔
جسٹس سنجیو کھنہ اور دیپانکر دتا کی بنچ نے طے شدہ ریلیوں پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جن فریقوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کے الزامات لگائے گئے ہیں وہ عدالت کے سامنے نہیں ہیں۔ تاہم، اس نے دونوں اضلاع کے ضلع مجسٹریٹس اور ایس پیز کو ہدایت کی کہ وہ ریلیوں کے مقام پر ریکارڈنگ کی سہولیات کے ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں کو یقینی بنائیں، تاکہ نفرت انگیز تقاریر ہوں تو کرنے والوں کی شناخت کی جاسکے۔
یہ حکم بنچ نے شاہین عبداللہ کی زیر التواء درخواست پر سماعت کے دوران دیا جس میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
اس میں کہا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے ضلع ایوت محل میں ۱۸؍جنوری کو ہندو جنجاگرتی سمیتی کی ریلی طے ہے جس میں نفرت انگیز تقاریر ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح چھتیس گڑھ کے ضلع رائے پور میں ۱۹؍سے ۲۵؍جنوری کے دوران سنگھ کی ریلیاں منقعد ہونے والی ہیں جن میں بھی نفرت انگیز تقاریر کا خدشہ ہے۔
عرضی گزار نے ان ریلیوں کے انعقاد کی اجازت کو منسوخ کرنے کی درخواست کی تھی جسے بنچ نے یہ کہتے ہوئے منسوخ انکار کر دیا کہ اس عدالت کی طرف سے ایسے واقعات کو روکنے کے لیے پہلے ہی اس معاملے پر ہدایات جاری کی گئی ہیں۔