سولیا ،27 ؍جولائی (ایس او نیوز) تعلقہ کے بیلارے نامی مقام پر بائک پر سوار ہوکر آنے والے دو افراد نے کل رات میں بی جے پی یوتھ لیڈر پروین نیٹّارو کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق پروین (32)پر اس وقت قاتلانہ حملہ کیا گیا جب وہ اپنی چکن کی دکان بند کر رہا تھا ۔ پروین نے اپنی دکان کا شٹر گراتے وقت دیکھا کہ کیرالہ رجسٹریشن والی موٹر بائک پر آنے والے دو افراد اس پر حملہ کرنے والے ہیں تو اس نے اپنی جان بچانے کے لئے بازو والی دکان میں پناہ لینے کی کوشش کی مگر تب تک حملہ آوروں نے ایک لمبے چھرے سے اس کے سر پر وار کردیا اور موقع پر سے فرار ہوگئے ۔ خون میں لت پت پڑے ہوئے پروین کو فوری طور پرایک پرائیویٹ اسپتال میں منتقل کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ دیا۔
اس قتل کے اصل اسباب کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے مگر معلوم ہوا ہے کہ مقتول پروین سیاست میں سرگرم تھا اور چند دن پہلے کلانجا کے وشنو نگر میں ہوئے واقعہ میں ملوث تھا ۔ یہ بات بھی دھیان میں رہے کہ ایک ہفتے پہلے بیلارے میں ایک مسلم نوجوان کو معمولی تکرار کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔
پروین کے قتل کی خبر عام ہوتے ہی ماحول بہت ہی کشیدہ ہوگیا اور احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے جسے دیکھتے ہوئے پولیس نے اس علاقے کی تمام دکانوں اور ہوٹلوں کو بند کروادیا ۔ پروین کی لاش جب پتور کے پرگتی سوپر اسپیشالٹی ہاسپٹل میں رکھی گئی تھی تو اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے بی جے پی کارکنان وہاں احتجاجی دھرنا دیا اور مطالبہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر موقع پر پہنچ کر ان کی بات سنیں ۔ ڈی سی کے بجائے جب اسسٹنٹ کمشنر موقع پر پہنچے تو احتجاجیوں نے ان کی بات سننے سے انکار کیا ۔ پھر ڈپٹی کمشنر راجیندرا کے وی نے ہاسپٹل میں پہنچ کر مظاہرین سے بات کی اور انہیں یقین دلایا کہ ملزموں کو ہر حال میں گرفتار کیا جائے اور مقتول کے خاندان کو ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کی جو مانگ کی جارہی ہے یہ بات سرکار تک پہنچائی جائے گی، اس کے بعد مظاہرہ ختم کیا گیا۔
اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے ہندو تنظیموں کی طرف سے آج کڑبا ، پتور اور سولیا تعلقہ جات میں مکمل بند کا اعلان کیا گیا ہے۔