نئی دہلی، 22جنوری(ایس او نیوز؍ایجنسی)سوشیل میڈیا پر بڑی تعداد میں فالوورس رکھنے والے ایسے لوگوں پر اب سختی ہونے والی ہے جو کسی مصنوعات کے تعلق سے غلط جانکاری دیتے ہیں۔ دراصل حکومت نے سوشیل میڈیا انفلوئنسر کیلئے ایک نیا قانون بنایا ہے جس کے تحت ان پر 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ لگ سکتا ہے۔ اس قانون سے انسٹاگرام، فیس بک، ٹوئٹر اور یوٹیوب پر کسی پروڈکٹ کو پروموٹ کرنے والے سوشیل میڈیا انفلوئنسر پر لگام لگانے کی کوشش ہوگی۔حکومت نے نیا قانون پیڈ پروموشن اور سوشیل میڈیا پر غلط اشتہار کو روکنے کیلئے بنایا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق 2025 تک ہندوستان میں سوشیل میڈیا انفلوئنسر کا مارکیٹ 20 فیصد کی ترقی کے ساتھ 2800 کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ نیا قانون سی سی پی اے (سنٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی)کی طرف سے بنایا گیا ہے۔ نئے اصول کے مطابق اگر کوئی سوشیل میڈیا انفلوئنسر اپنے سوشیل میڈیا اکاؤنٹ سے کسی مواد یا پروڈکٹ کا اشتہار غلط طریقے سے کرتا ہے تو اس پر 50 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا جائے گا، حالانکہ پہلی بار یہ جرمانہ 10 لاکھ روپے کا ہے، لیکن بار بار غلطی ہونے پر 50 لاکھ روپے تک کا جرمانہ دینا ہوگا۔
نئے قانون کے مطابق اگر آپ کسی مواد یا پروڈکٹ کا پروموشن کر رہے ہیں تو یہ بتانا ہوگا کہ یہ پیڈ ہے یا نہیں۔ دراصل عام لوگ یہ سمجھ نہیں پاتے کہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں وہ رقم لے کر کیا جا رہا پروموشن ہے یا نہیں۔ انھیں لگتا ہے کہ کوئی بڑی ہستی کسی چیز کا پروموشن کر رہا ہے تو وہ پروڈکٹ ٹھیک ہی ہوگا۔ نیا قانون انفلوئنسر کی جوابدہی طے کرنے کے مقصد سے ہی بنایا گیا ہے۔