واشنگٹن3مارچ(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)پانچ برس قبل جب کیلیفورنیا کے علاقے ماؤنٹین ویو کے سینٹ فرانسس ہائی سکول کی انتظامیہ نے اپنے دو طلبہ کے والد کے کہنے پرا سکول فنڈ کی رقم سے 'سنیپ چیٹ' میں سرمایہ کاری کی تھی تو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ایک دن یہ سرمایہ کاری ان کے سکول کو کروڑپتی بنا دے گی۔بدھ کوجب بازارِ حصص میں نوجوانوں میں مقبول سماجی رابطے کی ایپ 'سنیپ چیٹ' کے حصص فروخت کے لیے پیش کیے گئے تھے اور فی حصص ابتدائی قیمت 17 ڈالر رکھی گئی تھی۔سینٹ فرانسس ہائی سکول نے 2012 میں 15 ہزار ڈالر کی جو سرمایہ کاری تھی اس کے دو تہائی حصص کی جمعرات کو فروخت سے ہی اسے دو کروڑ 40 لاکھ ڈالر حاصل ہوگئے ہیں۔اسکول نے ایک تہائی حصص اب بھی فروخت نہیں کیے ہیں جبکہ جمعرات کی شام کاروبار کے اختتام تک سنیپ چیٹ کے حصص کی قیمت میں 44 فیصد اضافہ ہو چکا تھا۔اس اسکول کے موجودہ صدر سائمن چیونے اس خوش خبری سے اپنے طلبا و طالبات کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیاجس میں انھوں نے اس سرمایہ کاری کی کہانی بھی بیان کی۔انھوں نے اپنے خط کا آغاز 2012 کے ایک واقعے سے کیاہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سکول نے اس سال 15 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری ایک ایسی نئی ایپ میں کرنے کا فیصلہ کیا جسے دو طلبہ اینڈریو اور نیٹیلی ایگرز استعمال کرنے کے شوقین تھے۔ان دونوں کے والد بیری ایگرز نے اپنے بچوں کی اس ایپ میں دلچسپی دیکھتے ہوئے اس کے موجدین ایون سپیگل اور بوبی مرفی سے رابطہ کیا جو اس وقت سٹینفرڈ کے ایک کمرے سے کام کر رہے تھے۔اس ملاقات میں وہ ان دونوں افراد کے جوش اور جذبے متاثر ہوئے اور اپنی ذاتی کمپنی کی جانب سے انھیں پانچ لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی پیشکش کی۔اس سرمایہ کاری میں جہاں چار لاکھ 85 ہزار ڈالر کمپنی کے تھے وہیں بیری نے اپنے بچوں کے سکول کی انتظامیہ کو بھی سکول کے ترقیاتی فنڈ سے 15 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری پر راضی کر لیا۔سائمن نے اس سرمایہ کاری کا پھل ملنے کی خبر دیتے ہوئے لکھا ہے کہ 'اس سکول کی سنیپ چیٹ میں سرمایہ کاری رنگ لے آئی ہے اور ہمیں وہ مدد ملی ہے جس سے ہم اپنے وڑن اور مقاصد کے حصول کے لیے کام جاری رکھ سکتے ہیں۔بیری ایگرز نے بھی اس بارے میں اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ 'جہاں میں سنیپ کے ابتدائی سرمایہ کار کے طور پر اس سفر سے لطف اندوز ہوا ہوں وہیں مجھے اپنے بچوں کے ساتھ یہ تجربہ کرنے کا بھی مزا آیا ہے۔'