لکھنؤ:28/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کا مضبوط اتحاد بنانے کی کوشش میں مصروف سماج وادی پارٹی نے ان انتخابات میں دیگر جماعتوں سے تال میل اور سیٹوں کی تقسیم کے بارے میں فیصلہ لینے کے لیے آج پارٹی صدر اکھلیش یادوکو اختیار دے دیا۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ جنرل سکریٹری رام گوپال یادو نے پارٹی کی قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کی معلومات دیتے ہوئے یہاں نامہ نگاروں کو بتایا کہ سال 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں اتر پردیش میں معاہدے اور سیٹوں کی تقسیم کو لے کر ایس پی کی قومی مجلس عاملہ نے قومی صدر اکھلیش یادو کو اختیار دیا ہے، وہ اس معاملے میں جو مناسب سمجھیں گے، فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں تمام اراکین کا خیال تھا کہ اگلا لوک سبھا انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں (ای وی ایم) کے بجائے بلیٹ پیپر سے کرایا جائے۔ اس سوال پر کہ اگر الیکشن کمیشن بیلٹ سے الیکشن کرانے کا مطالبہ نہیں مانتا ہے تو یادو نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کے دروازے پر بیٹھ جائیں گے، نہ کوئی اندر جا سکے گا اور نہ ہی باہر۔ گاندھی جی کی طرح ملک میں ستیہ گرہ ہی کیا جا سکتا ہے، جو ہم کریں گے۔نریندر مودی کے اتر پردیش کے تابڑ توڑ دوروں کے بارے میں یادو نے کہا کہ ابھی تو انہیں روزانہ ہی یوپی کا دورہ کرنا پڑے گا، وقت آنے دیجیے۔ سنبھل لوک سبھا سیٹ سے اپنے الیکشن لڑنے کے امکانات پر یادو نے کہا کہ یہ فیصلہ تو پارٹی ہی کرے گی. اگر وہ کہے گی تو ہم انتخابات ضرور لڑیں گے۔قومی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں اعظم خاں اور شیو پال یادو سمیت کچھ سینئر رہنماؤں کے شریک نہ ہونے کے بارے میں پوچھے جانے پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ کوئی ضروری ہے کہ تمام لوگ موجود رہیں،90 فیصد لوگ تو موجود تھے، پارٹی صدر اکھلیش یادو موجود تھے۔