بنگلور 27 نومبر (ایس او نیوز) ریاست کرناٹک کی قدآورشخصیت، کانگریس کے بزرگ لیڈر، سابق مرکزی وزیرسی کے جعفرشریف کو آج بنگلورومیں سُپرد لحد کیا گیا۔ مکمل سرکاری اعزازکے ساتھ کئی اہم شخصیات کی موجودگی میں 85 سال جعفرشریف کو الوداع کیا گیا۔
ملک کے ممتازلیڈر، کانگریس کی سرکردہ شخصیت، اقلیتوں کی آواز، بے باک سیاست دان سی کے جعفرشریف کا آخری سفراختتام پذیرہوا۔ بنگلورومیں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے ان کا آخری دیدارکیا اورپُرنم آنکھوں سےانہیں رخصت کیا۔ جعفرشریف کی جسد خاکی کو اُن کی رہائش گاہ سے پہلے کانگریس کے دفترلے جایا گیا۔
کانگریس دفترمیں رسمی طورپرتعزیت پیش کی گئی۔ پھرجسد خاکی کو قدوس صاحب عیدگاہ لے جایا گیا۔ قدوس صاحب عیدگاہ میں راجیہ سبھا کے اپوزیشن لیڈراورسابق مرکزی وزیرغلام نبی آزاد، وزیراعلی ایچ ڈی کمارا سوامی، سابق وزیراعلی سدارامیا، کانگریس کے ریاستی انچارج وینوگوپال، سابق مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے رحمن خان، کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دنیش گنڈ راؤ، کرناٹک اسمبلی کے اسپیکررمیش کمار، ریاستی وزرا ضمیراحمد خان، یوٹی قادر، سی ایم ابراہیم، سابق ریاستی وزیر آرروشن بیگ، رکن کونسل نصیراحمد،رضوان ارشد، بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ریاستی صدرعبدالعظیم سمیت کئی لیڈران، دانشور، کانگریس کےکارکنان اس موقع پرموجود تھے۔
پولیس نے تین مرتبہ ہوا میں گولیاں چلاتےہوئے سی کے جعفرشریف کو سلامی پیش کی۔ ان کے جسد خاکی پر ترنگا پرچم رکھتے ہوئے مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ انہیں رخصت کیا گیا۔ سرکاری اعزازکے بعد جعفرشریف کی نمازجنازہ قدوس صاحب عیدگاہ میں ہی ادا کی گئی۔ کرناٹک کے امیرشریعت مولانا صغیراحمد رشادی نے نماز جنازہ کی امامت کی۔ جبکہ مسجد قادریہ کے خطیب وامام مولانا عبدالقادرشاہ واجد نے دعا مغفرف فرمائی۔
نماز جنازہ میں نہ صرف بنگلوروبلکہ ریاست کے مختلف شہروں کے لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجتماعی دعا کے بعد جسد خاکی کوعیدگاہ سے کچھ دورکے فاصلے پرموجود قدوس صاحب قبرستان لے جایا گیا۔ جعفرشریف کے پوتے رحمن شریف اورعبدالوہاب شریف، داماد سید یاسین، علمائے کرام اوراہم مسلم لیڈروں کی موجودگی میں جعفرشریف کی تدفین عمل میں آئی۔
بنگلوروکے شمال پارلیمانی حلقے سے 7 مرتبہ لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے والے جعفرشریف نے نہ صرف کرناٹک بلکہ قومی سطح پراپنی پہچان بنائی تھی۔ بحیثیت ریلوے وزیرملک کے ریلوے نظام کو بام عروج پرلے جانے میں ان کی خوب محنتیں رہیں۔ بھلے انہیں اپنی زندگی کے آخری دورمیں سیاسی شکستوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلسل جیت کے بعد لوک سبھا کے دوانتخابات میں انہیں شکست ہوئی۔
اس کے بعد جعفرشریف نے اپنے پوتوں کو سیاسی میدان میں آگے لانے کی پُرزورکوشش کی۔ لیکن یہ کوششیں بھی کامیاب نہ ہوسکیں۔ اس طرح ان کا سیاسی سفراپنےعروج سے زندگی کے آخری مرحلے میں زوال کی جانب بھی رخ کیا، لیکن ان نشیب وفرازکے باوجود اس قد آورشخص نے ہردم، ہرگھڑی ملک اورملت کی خدمت انجام دی۔ آخری دم تک ملک اورملت کی تعمیراورترقی کاجذبہ لئے سرگرم عمل رہے۔ اسی جذبہ کو عملی جامہ پہنانے کی کوششیں کرتے ہوئے اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔
سی کے جعفرشریف کی رحلت کے بعد ہرعام اورخاص کی زبان پربس انکی عوامی خدمات، ان کے سیکولرخیالات، ان کی دوراندیشی، حکمت عملی اور سیاسی بصیرت کے چرچے تھے۔ با لخصوص محکمہ ریل کی ترقی، بنگلورواوردیگر شہروں میں ریل کے کارخانہ شروع کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے،اس طرح ان کی خدمات کوہرعام اورخاص نے سراہا۔ اورآخرت میں ان کی کامیابی کیلئے دعائیں کیں۔
اس طرح جعفرشریف کے انتقال کو نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے ملک اور بالخصوص اقلیتوں کیلئے بڑا نقصان سمجھا جارہاہے۔ ان کے آخری سفرمیں کیا ہندو، کیا مسلمان کیا سکھ اورکیاعیسائی سبھی شریک تھے۔ اورعقیدت محبت، کے ساتھ انہیں الوداع کیا۔