ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ستنا سے گراؤنڈ رپورٹ: 15 سال شیوراج کو دیکھ لیا، اب تبدیلی لائیں گے ، ایم پی انتخابات: بی جے پی کیلئے’بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

ستنا سے گراؤنڈ رپورٹ: 15 سال شیوراج کو دیکھ لیا، اب تبدیلی لائیں گے ، ایم پی انتخابات: بی جے پی کیلئے’بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی

Mon, 26 Nov 2018 22:39:05    S.O. News Service

ستنا:26/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) یوپی سے ملحق مدھیہ پردیش کے بندیل کھنڈ علاقے کے تحت آنے والی تقریبا 30 اسمبلی سیٹیں ہیں۔ یہ علاقہ روایتی طور پر بی جے پی کے لئے ہمیشہ سے مفید ر ہے ہیں، لیکن اس بار کا الیکشن کئی طریقوں میں بی جے پی کے لئے بھاری پڑتا دکھائی دے رہا ہے اور بی جے پی کے لیے راہ مشکل ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق مدھیہ پردیش کے ستنا سے ٹیکم گڑھ علاقے کا دورہ کرکے سیاسی فضا جاننے کی کوشش کی ہے۔مدھیہ پردیش میں ماما کے نام سے مشہور وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کی اپنی مقبولیت مانی جاتی ہے، لیکن آج تک کی ٹیم نے جب ستنا سے ٹیکم گڑھ تک کا دورہ کیا تو پایا کہ زمین پر وزیر اعلی کے کام نظر دینے کے باوجود لوگوں میں انہیں لے کر ناراضگی ہے۔ ریاست میں شیوراج حکومت کے 15 سال میں سڑک اور بجلی کے انتظام تو نظر آتے ہیں، لیکن پانی کی قلت آج بھی لوگوں کو پریشان کر رہی ہے۔ یوپی کی سرحد پار کرتے ہی مدھیہ پردیش کی چترکوٹ اسمبلی آتی ہے جو ستنا ضلع میں آتی ہے۔ٹیم نے جب ستنا کا رخ کیا تو قریب 35 کلومیٹر کے بعد مج گوا ٹاؤن گئے جہاں کے لوگ پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ پتھریلاعلاقہ جہاں پانی کے نام پر بڑے بڑے گڑھے کھودے ہوئے ہیں، لیکن بارش کے بعد بھی یہاں پانی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے ۔یہاں کے کنویں بھی خشک ہوچکے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت چاہتی تو پانی کی قلت اب تک دور ہو چکی ہوتی۔یہاں چھوٹے چھوٹے چیک ڈیم بنا کر اس علاقے کو ہمیشہ کے لئے پانی کی قلت سے آزاد کیا جا سکتا تھا، لیکن بدعنوان افسروں اور حکام نے اس علاقے کو پیاسا چھوڑ رکھا ہے۔ ریگاؤں اسمبلی سے گزرے تو موٹروے کنارے ایک کھیت میں بوائی ہوتی دیکھ کر یکبارگی لگا کہ شاید لوگ شیوراج حکومت سے یہاں تو خوش ہوں گے، لیکن یہ کسان بھی ناراض تھے۔ وجہ پانی کی قلت اور مہنگائی نے ان کی کمر توڑ رکھی ہے۔یہ کسان اس لیے ناراض ہیں ؛کیوں کہ ان کے کھیتوں تک پانی کا انتظام نہیں ہے۔ بجلی بھی ضرورت کے مطابق نہیں آتی۔ اگرچہ بات چیت میں اس نے صاف کر دیا کہ یہاں ذات کو دیکھ کر ہی ووٹ کرتے ہیں۔ چترکوٹ کے سجوار گاؤں میں ٹیم نے کسانوں سے بات چیت کی۔ گاؤں کے کسان وجے یادو کے زبان پر کھیتی کو لے کر ڈھیروں سوالات اور مسائل تھے ۔ وجے اپنی تکلیف بیان کرتے ہوئے کہا کہ شیوراج حکومت سے زیادہ ناراضگی نہیں ہے، لیکن کاشتکاری کے اخراجات کو لے کر پریشان ہوں۔ فصل کی پرواہ کسی بھی پارٹی کو نہیں ہے۔ ملک کا کسان بیج کھاد اور پانی تینوں کے لئے جتنے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں، اتنے سے وہ صرف اپنے خاندان کا پیٹ پال سکتے ہیں۔ وہیں کھڑے دوسرے کسانوں نے کہا 15 سال شیوراج کو دیکھ لیا، اب تبدیلی لائیں گے۔


Share: