بنگلورو،28؍فروری(ایس او نیوز) برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی حدود میں آنے والی روینیو سائٹوں کیلئے کھاتہ مہیا کرانے کے سلسلے میں ایک ماہ میں ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔ یہ یقین دہانی آج بی بی ایم پی کمشنر منجوناتھ پرساد نے بی بی ایم پی کونسل میٹنگ میں کرائی۔ اپوزیشن لیڈر پدمانابھاریڈی ، سابق میئر منجوناتھ ریڈی، شانتا کماری اور دیگر کی طرف سے یہ معاملہ اٹھائے جانے پر وضاحت کرتے ہوئے کمشنر نے کہاکہ ریوینیو سائٹوں کو کھاتہ منظور کرنے کے سلسلے میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر ہائی کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں ٹیکس اینڈ فائنانس کمیٹی کے روبرو ایک نوٹ لائی جائے گی اور ایک ماہ کے اندر ضروری قدم اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ اس سے پہلے جن افسران نے غیر قانونی طور پر کھاتے تیار کئے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی بھی کی جائے گی۔اس سے قبل معاملہ اٹھاتے ہوئے اپوزیشن لیڈ رپدمانابھا ریڈی نے کہاکہ بی بی ایم پی کے ریوینیو ڈیوژن کے افسران نے غیر قانونی طور پر کئی جائیدادوں کو کھاتے مہیا کرائے ہیں۔ خاص طورپر گووند راج نگر اور چندرا لے آؤٹ کے اسسٹنٹ ریوینیو افسران نے چارسو سے زائد جائیدادوں کیلئے غیر قانونی طور پر کھاتے مہیا کرائے ہیں۔ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی رقم کے عوض کھاتوں کی فراہمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 2007 سے اب تک لاکھوں کی تعداد میں ریوینیو سائٹوں کیلئے کھاتے نہیں دئے گئے ہیں، لیکن بعض علاقوں میں افسران کی ملی بھگت سے قانون شکنی کرتے ہوئے مہیا کرائے گئے کھاتوں کی وجہ سے بی بی ایم پی کی آمدنی کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ ہائی کورٹ کے جسٹس رام موہن ریڈی کی قیادت والی ڈویژن بنچ نے اس سلسلے میں رہنما خطوط وضع کئے ہیں۔ بی بی ایم پی نے اگر ان کے مطابق کھاتوں کی فراہمی نہیں کی تو یہ توہین عدالت کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ قانون کے مطابق اگر بی بی ایم پی یا کوئی بھی افسراگر کھاتہ مہیا کراتا ہے تو اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ پدمانابھا ریڈی سے اتفاق کرتے ہوئے سابق میئروں شانتا کماری اور منجوناتھ ریڈی نے بھی کہا کہ بی بی ایم پی کمشنر کو فوری طور پر اس معاملے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ منجوناتھ ریڈی نے بتایاکہ صرف بمن ہلی علاقہ میں کھاتوں کے معاملے میں بڑے پیمانے پر گول مال ہوا ہے، اب تک اس سلسلے میں کسی بھی آفیسر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ۔اس مرحلے میں میئر جی پدماوتی نے مداخلت کرتے ہوئے کمشنر کو ہدایت دی کہ فوری طور پر اس معاملے کی جانچ کرائی جائے۔