نئی دہلی، 29؍ستمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے گزشتہ سال تین زرعی قوانین پر ایک سال سے زیادہ طویل احتجاج کو دوبارہ شروع کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 نومبر 2020 کو دہلی کی سرحد پر تحریک شروع ہوئی۔ اس کے بعد حکومت نے احتجاج کے اختتام پر جو وعدے کیے تھے ان میں سے کوئی بھی وعدہ اب تک پورا نہیں کیا گیا۔ ایسے میں کسان کو دوبارہ تحریک شروع کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
بدھ کو مظفر نگر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے راکیش ٹکیت نے کہا کہ 26 نومبر کو کسان مورچہ سب سے پہلے تمام ریاستوں کے دارالحکومت میں دھرنا مظاہرہ کرے گا، پھر گورنروں کو میمورنڈم دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے نہ تو ایم ایس پی کا مطالبہ پورا کیا ہے، نہ گنے کی قیمت، اور نہ ہی مقامی مسائل کو حل کیا ہے۔ یہ میمورنڈم میں لکھا جائے گا اور گورنروں کو دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گاؤں کے لوگوں کا برا حال ہے۔ حکومت مذاکرات کے لیے تیار نہیں۔ یہ حکومت پولیس کی مدد سے تحریکوں کو دبانے کا کام کر رہی ہے۔ کوئی بولتا ہے تو اس کا مقدمہ درج ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دبانے سے نہیں چلتی، حکومت بات چیت سے چلتی ہے۔
راکیش ٹکیت نے پی ایف آئی پر پابندی پر بھی کہا کہ اس تنظیم کے لوگوں کی تصویریں چوراہوں پر لگائی جائیں۔ اس تنظیم سے کسی کا تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ اس تنظیم کے لوگوں کو گرفتار کرکے پوچھ گچھ کرنے کے بعد پولیس دفعہ 151 کے تحت ان کا چالان کر رہی ہے اور ان سے دو لاکھ روپے لے کر چھوڑ رہی ہے۔
کسان تحریک کیوں شروع ہوئی؟ دو سال قبل (20 اور 22 ستمبر 2020) پارلیمنٹ نے زراعت سے متعلق تین بل منظور کیے تھے۔ 27 ستمبر کو اس وقت کے صدر رام ناتھ کووند نے ان بلوں کو منظوری دی جس کے بعد یہ تینوں قانون بن گئے۔
کسانوں نے ان قوانین کی دفعات کے خلاف ایک سال سے زیادہ عرصہ تک احتجاج کیا۔ ان قوانین کے ذریعے، موجودہ اے پی ایم سی (زرعی پیداوار مارکیٹ کمیٹی) منڈیوں کے ساتھ ساتھ نجی کمپنیوں کو کسانوں کے ساتھ کنٹریکٹ فارمنگ کرنے، اناج کی خرید و فروخت کے علاوہ ان کو ذخیرہ کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔