پٹنہ،27نومبر(آئی این ایس انڈیا؍ایس او نیوز)راشٹریہ جنتا دل کے قومی ترجمان اور نائب صدرشیوانندتیواری نے بھارتی جنتا پارٹی پر نشانہ سادھا ہے۔منگل کو انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ایسی ناکام اورنالائق حکومت کبھی بھی نہیں بنی لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔معاشرے میں امن اور استحکام برقرار رکھنا بھی حکومت کی پہلی ذمہ داری ہے لیکن یہ لوگ برابر نفرت کی زبان بولتے ہیں،زہر سماج میں پھیل رہا ہے، ووٹ کے لئے سماج میں دشمنی اور کشیدگی پھیلاکر ملک کو کمزور کرنے میں لگے رہتے ہیں،کوئی بھی معاشرہ، جہاں باہمی کشیدگی اور نفرت پیدا کی جا رہی ہے کیسے آگے بڑھ سکتاہے؟۔شیوانند تیواری نے اس بیان کو جاری کرکے کہا کہ جو کچھ بھی ایودھیا گئے ہوں گے،انہوں نے دیکھاہوگا کہ پوری ایودھیا میں رام کے نام سے مندروں کی بھرمارہے۔ یاد ہوگا کہ جہاں مندر تعمیر کے لئے مہم چلائی جا رہی ہے، وہاں ایک مسجد تھی۔یہ کہا گیا کہ ٹھیک اسی جگہ رام جی کاجنم ہوا تھا،پہلے وہاں مندر تھاجسے جو بابر کے جنرل میر بقی نے ٹوڑدیا اور اسی جگہ مسجد بنادیا،اس سوال پر ماہرین بھی بٹے ہوئے ہیں،کچھ کاکہناہے کہ مندر توڑکر مسجد بنائی گئی،کچھ کاکہناہے کہ نہیں یہاں کوئی مندر نہیں تھا، اس تنازع کے حل کا کیاطریقہ ہوگا؟۔اس تنازع کو حل کرنے کے راستے کے بارے میں تیواری کا کہنا ہے کہ س طرح کے تنازعہ کو حل کرنے کا پرانا طریقہ پنچایت کا ہے،اگر پنچایت سے معاملے کا حل نہیں نکلتاہے تو دوسرا راستہ عدالت کا ہے،پنچایت سے اس معاملے کا حل نہیں نکل پایا، یہ معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا اور وہاں زیرالتوا ہے،اب یہ سپریم کورٹ پر جلد فیصلے کے لئے عوامی دباؤ بن رہا ہے،اتناہی نہیں فیصلہ بھی ان کے دماغ کے مطابق ہونا چاہئے،ورنہ فیصلہ نہیں مانیں گے،کسی بھی تنازع میں سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوگا،یہ ہمارے آئین کا میکانزم ہے، منہ سے یہ جوبھی کہیں، ان کا عمل بتا رہا ہے کہ ان کا بھروسہ آئین پر نہیں ہے،یہ تشویش کی بات ہے، خاص طور پر پسماندہ ہیں، دلت، قبائلیوں، خواتین اور آزاد افراد رائے رکھنے والوں کے لیے یہ اور بھی زیادہ پریشان کن ہے، انہیں جوتھوڑا بہت بھی ملا ہے، وہ ہمارے آئین کی بدولت ہی ملاہے۔اس کے ساتھ تیواری نے کہا کہ دہلی میں پانچ سال سے مودی کی حکومت ہے۔اس دوران رام مندر کی کوئی بحث نہیں ہے، اب پانچ سال پورے ہونے جا رہے ہیں،مودی نے وزیراعظم بننے سے پہلے ملک کی عوام سے بہت سے وعدے کئے تھے،ان کو مکمل نہیں کیابلکہ ان کی حکومت نے عام انسان کی زندگی اور مشکل بنادی ہے۔ادھرجتنے بھی ضمنی الیکشن ہوئے ہیں اکثرمیں بی جے پی ہاری ہے،یہاں تک کہ ان کے اسٹارپرچارک اور طاقتور وزیر اعلی یوگی جے اپنی نشست کوبھی نہیں بچاسکے ۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ مودی حکومت کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔بی جے پی اور اس کے حامی شکست کے امکان سے خوفزدہ ہیں،لہذا یہ لوگ رام مندرکا شور پرمچا رہے ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ لوگ رام کے نام پر روزی، روٹی اور روزگار کا سوال بھول جائیں،بے روزگاری نوجوانوں، کسانوں اور جو لوگ محنت کشی کر کے خاندان کا پیٹ کو چلاتے ہیں، اپنے مسائل اور گزشتہ انتخابات کے وعدے کو بھول جائیں۔رام کے نام پر ملک کے لوگوں کی حکمت اور ضمیر پر یہ لوگ پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔