جے پور، 26؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)وزیراعلیٰ اشوک گہلوت کے کانگریس صدرکے امیدوار بننے کے اعلان کے بعد راجستھان کی سیاست ایک بارپھرگرم ہوگئی ہے -خبروں کے مطابق ہائی کمان کی جانب سے اشوک گہلوت کی جگہ سچن پائلٹ کا انتخاب وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کیا جاچکا ہے -
لیکن راجستھان کے کانگریسی ایم ایل ایز کی اکثریت ہائی کمان کی بات ماننے کیلئے تیار نہیں، اس لئے شام کے وقت ہونے والی مقننہ پارٹی کی میٹنگ سے قبل ہی گہلوت خیمہ کے تقریباً 80 ایم ایل ایز نے یہ کہتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دے دی کہ اگر سچن پائلٹ کو وزیراعلیٰ بنایا گیا تو تمام 102 ایم ایل ایز مستعفی ہوجائیں گے - خبر لکھے جانے تک سنگین حالات کے پیش نظر گہلوت خیمہ کو ہائی کمان نے دہلی طلب کیا ہے اور راجستھان میں اسمبلی اسپیکر سی پی جوشی کو وزیراعلیٰ بنانے کیلئے سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں -یہ ممبران اسمبلی وزیراعلیٰ کے عہدے کیلئے سچن پائلٹ کی امیدواری سے بے حد ناراض ہیں - اسی کے ساتھ ممبران اسمبلی کی ہونے والی میٹنگ بھی رد کردی گئی ہے -ناراض ممبروں کا کہنا ہے کہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں ہماری آواز نہیں سنی جارہی ہے -
واضح رہے کہ راجستھان کے وزیراعلیٰ کی کرسی کیلئے اس وقت زبردست کھینچا تانی چل رہی ہے - اس درمیان وزیراعلیٰ اشوک گہلوت نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کیلئے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ میں 40 برسوں تک آئینی عہدوں پر رہا اورہماری خواہش ہے کہ نئی نسل کو یہ موقع ملے-انہوں نے کہاکہ آئندہ اسمبلی الیکشن ایک ایسے شخص کی قیادت میں لڑا جانا چاہئے جس سے راجستھان میں کانگریس حکومت پھر سے اقتدار میں آسکے- انہوں نے کہا کہ راجستھان واحد بڑا صوبہ بچا ہے جہاں پر کانگریس اقتدار میں ہے - اگر راجستھان میں کانگریس جیت جاتی ہے تو پارٹی پھر سے زندہ ہوگی اور اس کا مثبت اثر یہ ہوگا دیگر ریاستوں میں بھی پارٹی اپنے کارکنان کی محنت ومشقت سے جیت درج کرے گی-