ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ذہنی دباؤ سے بچوں کا دماغ کمزور ہوجاتا ہے :ڈاکٹر یلپا ریڈی

ذہنی دباؤ سے بچوں کا دماغ کمزور ہوجاتا ہے :ڈاکٹر یلپا ریڈی

Mon, 20 Mar 2017 11:02:42    S.O. News Service

چنتامنی:20 /مارچ(محمد اسلم/ایس او نیوز)والدین اپنے بچوں پر دباؤ نہ ڈالیں بلکہ ان کی قابلیت کو سمجھتے ہوئے ان کا ساتھ دیں اور ہر معاملے میں ان کو اعتماد میں لیں ان خیالا ت کااظہار بچوں کے ماہر ڈاکٹر یلپا ریڈی نے کیا۔

آج شہر کے کاولگنہلی کے پاس واقع جئن پرائیویٹ اسکول میں منعقد گریجویشن ڈے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مقابلہ سے بھری دنیا میں بچوں کو والدین اور ٹیچرس دونوں ہی دباؤ بناتے رہتے ہیں جو قابل تشویش بات ہے خصوصا اسکولوں میں بچوں کو زیادہ سے زیادہ ہوم ورک دیاجاتا ہے اور ہر بچے کے مقابلے اول نمبر آنے پر زور دیا جاتا ہے زیادہ سے زیادہ تعلیم مشکلات کو بچوں کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے زیادہ زبانوں کو ایک سایج سیکھنے پر مجبور کیا جاتا ہے ان تمام باتوں سے بچے بے حد پریشان رہتے ہیں اس پر گھر میں بھی والدین وہی باتیں کرتے ہیں اول نمبر ہی ایک واحد راستہ ہوتا ہے اس طرح کا دباؤ بچوں کے نازک ذہن پر بہت برا اثر کرتا ہے ہر روز انہیں اپنے لئے وقت ہی نہیں ملتا سوچنے سمجھنے کا وقت دیاجاتا ہے صبح اُٹھتے ہی اسکول کے لئے تیار پھر اسکول واپس گھر پھر سے ٹیوشن اس طرح ان کا پورا دن اسی دباؤمیں نکل جاتا ہے ہر روز یہی معاملہ ہوتا اگر وقت مل بھی جاتا ہے تو آج کے بچے میدان میں کھیلنے سے زیادہ کمپیوٹر اور ٹی۔وی۔دیکھنے میں اپنا وقت گزارتے ہیں ذہنی وجسمانی ورزش کا وقت نہیں ہوتا بچوں میں یہ چالاک توبے وقوف جیسی باتیں نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان کو اچھی تعلیم اور پڑھائی کا ماحول بناکردیناچاہئے ساتھ ہی کھیلوں میں دلچسپی کو بڑھا وادینا چاہئے ۔

اسکول کے پرنسپال کرشنن کوشیک نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ والدین اپنے بچوں میں صرف دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کراکہ اسکول کو ترک کردیتے ہیں والدین ہر گیز ایسا کام کرنے نہ دیں ان کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا مواقع فراہم کریں پڑھائی کے ساتھ طلباء کو کمپیوٹر اور جنرل نالیج بھی سیکھنے کی پوری کوشش کریں طلباء کو وقت مقررہ پر اسکول بھیجا کریں ۔اس موقع پر اسکول کے ہیڈ ماسٹر ایم۔پرتا سارتی ٹیچرس میں زکیہ سلطانہ ،وجیا ،وانی اُما،پدما شری سمیت کئی ٹیچرس وغیرہ موجود رہے ۔


Share: