نئی دہلی، 4/جنوری (ایس او نیوز/ایجنسی) دہلی ہائی کورٹ نے ترنمول کانگریس کی لیڈر مہوا موئترا کی لوک سبھا رکنیت منسوخ کرنے کے بعد اپنے سرکاری الاٹ شدہ مکان کو خالی کرنے کے نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ وہ ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹ سے رجوع کریں۔ یاد رہے کہ مہوا موئترا نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں۷؍ جنوری تک مکان خالی کرنے کے نوٹس کو منسوخ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے ان کی درخواست پر کہا کہ وہ ۷؍ جنوری کے بعد اپنی سرکاری رہائش برقرار رکھنے کی اجازت کیلئے باڈی سے رجوع کریں۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق ہی انہیں بے دخل کرنے کیلئے اقدامات کرے۔عدالت نے موئترا کو اپنی عرضی واپس لینے کی بھی اجازت دی ہے۔
واضح رہے کہ ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹس ہاؤسنگ، شہری امور کی وزارت کے تحت ایک محکمہ ہے جو بشمول رہائش ،مرکزی حکومت کی جائیدادوں کا انتظام سنبھالتا ہے۔ جسٹس سبرامونین پرساد نے کہا کہ قوانین نے حکام کو اجازت دی ہے کہ وہ ایک مقررہ مدت کیلئے رہائشی کو مزید قیام کی اجازت دیں۔جج نے کہا کہ ’’ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹس کے سامنے ایک نمائندگی پیش کریں اور ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘‘
یاد رہے کہ مہوا موئترا نے عدالت سے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹیٹس کے۱۱؍ دسمبر کے حکم کو منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ سرکاری ادارے کو ہدایت دے کہ وہ ۲۰۲۴ء کے عام انتخابات کے نتائج آنے تک سرکاری رہائش گاہ اپنے پاس رکھ سکتی ہیں۔
مہوا موئترا کی لوک سبھا رکنیت اس وقت منسوخ کی گئی جب اخلاقیات پینل نے انہیں ’’غیر اخلاقی طرز عمل‘‘ کا قصوروار پایا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے لوک سبھا میں اڈانی گروپ پر اپنے سوالات پوسٹ کرنے کے بدلے میں بزنس مین درشن ہیرانندنی سے تحائف قبول کئے ہیں۔ موئترا نے کہا تھا کہ انہوںنے اپنے پارلیمانی لاگ ان کی تفصیلات بزنس مین کے ساتھ شیئر کی ہیں تاکہ ان کے عملے کو آفیشل پلیٹ فارم پر اپنے سوالات ٹائپ کرنے کیلئےکہا جا سکے۔ تاہم، موئترا نے لوک سبھا سے اپنی رکنیت کی منسوخی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔سپریم کورٹ نے بدھ کو مہوا موئترا کی عرضی پر لوک سبھا کے سیکریٹری جنرل کو نوٹس جاری کرکے تین ہفتوں میں جواب طلب کیا ہے۔