ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دہشت گردی کے الزام میں گرفتار نوجوان عدالتوں سے باعزت بری ہو رہے ہیں ،تو پھر بم دھماکے کرنے والے اصلی مجرم کہاں ہیں ؟ مولانا ارشد مدنی کا سوال

دہشت گردی کے الزام میں گرفتار نوجوان عدالتوں سے باعزت بری ہو رہے ہیں ،تو پھر بم دھماکے کرنے والے اصلی مجرم کہاں ہیں ؟ مولانا ارشد مدنی کا سوال

Sat, 04 Mar 2017 18:31:20    S.O. News Service

ستارا (مہاراشٹر): ۴؍ مارچ  (ایس او نیوز)دس دس بارہ بارہ سال بعد دہشت گردی کے جھوٹے الزامات سے مسلم نوجوان باعزت بری ہوکر باہر آرہے ہیں، جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان نوجوانوں کو زبردستی پھنسایا گیا اور اُن کی نوجوانی کے اہم ایام کو برباد کردیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ نوجوان بے قصور ہو کر باعزت بری ہورہے ہیں تو پھر ملک کے مختلف شہروں میں جو بم دھماکے ہوئے، اُن کو انجام دینے والے اصلی دہشت گرد کون ہیں ؟ یہ سوال   جمعیۃ علماء ہند کے صدر جانشین شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے ستارا کے مال پانی پلاٹ،نزد عیدگاہ،  بدھ وار ناکہ،آئی ٹی آئی روڈ،میں منعقدہ کانفرنس میں ہزاروں کے مجمع کے دوران کیا ۔

مولانا نے کہا کہ  دہشت گردی اور بم دھماکوں کے جھوٹے الزام میں بے شمار مسلم نوجوانوں کو دس دس بارہ بارہ سال قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے کے بعد عدالت ان کو باعزت بری کر دیتی ہے ،ان کی گرفتاری کے پیچھے پولس نہیں بلکہ اقتدار کی پالیسی کار فرماہے ۔ آپ نے پوچھا  کہ احمد آباد ،ممبئی اور گجرات دھماکہ کے اصل ملزمین جو ارباب اقتدار کی چادر میں چھپے ہوئے ہیں ،انہیں کون پکڑے گا ؟آپ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ جب مسلم نوجوان عدالتوں سے باعزت بری ہو رہے ہیں تو اس کے اصل مجرم کہاں ہیں ؟  مولانا نے حکومت ہند کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کا کھیل ملک کی ترقی کے لئے رکاوٹ بنے گا ،اور کچھ بعید نہیں کہ ملک کو تقسیم کر دے ۔

مولانا ارشد مدنی نے ملک کی موجودہ صورتحال پر اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہوئے فرمایا کہ ووٹ کی سیاست ملک میں نفرت کی دیوار کھڑی کرنے کے مترادف ہے،یہ حالات ملک کو تنزلی کی طرف لے جانے والے ہیں ،اس کی حفاظت کرنا ملک کے عوام پر لازم ہے۔ورنہ تو اس سے ملک کااقلیتی طبقہ سمیت اکثریتی طبقہ بھی بری طرح متاثر ہوگا ۔
مولانا ارشدمدنی نے صاف لفظوں میں کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کوئی سیاسی جماعت نہیں ہے اور اس کو اس بات سے کوئی واسطہ نہیں ہے کہ کرسی اقتدار پر کون بیٹھتا ہے اور کو ن اترتا ہے ،جمعیۃ علماء ہند اپنی یہ آواز ملک و ملت کی خیر خواہی اور بھلائی کے جذبہ سے لگا رہی ہے اور اس کو اپنا مذہبی فریضہ سمجھتی ہے اور تاریخ کے ہر موڑ پر جمعیۃ علماء ہند کے بزرگوں نے اپنا یہ فریضہ انجام دیا ہے ،جس کی پاداش میں ان کو غیروں اور اپنوں کی لعن و طعن کو بھی برداشت کرنا پڑا ہے ،مگر ہم ملک کے سنگین نتائج سے عوام کو باخبر کرتے رہیں گے اور پیغام محبت کی شمع ملک کے کونے کونے میں جلاتے رہیں گے ۔

مولانا مدنی نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتیں اکثریتی و اقلیتی طبقوں کے درمیان نفرت کی دیوار کھڑی کرنے میں مصروف ہیں ،لیکن قومی یکجہتی ہمارے ملک کی شناخت ہے ،یہ ہمارا سرمایہ ہے اس کی حفاظت ہم سب پر لازم ہے ۔

اچاریہ پرمود کرشنم نے کہا کہ اس ملک میں منگولی ،فرنگی اور پرتگالیوں نے سیکروں سال حکومت کی اور وہ ملک کی تہذیب واتحاد کو توڑ نہیں سکے ،لیکن موجودہ حکومت نے تین سال میں وہ سب کچھ کر دیا جو کسی نے بھی سینکڑوں سال میں نہیں کر سکے تھے۔اس وقت ملک کو ترقی کے بجائے فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے کا کام کیا جارہا ہے ،انہوں نے جمعیۃ علماء کی قومی یکجہتی تحریک کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو جمعیۃ کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنا چاہئے۔ مولا ناحلیم للہ قاسمی نے ملک کی موجودہ صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرقہ پرستی کا جواب فرقہ پرستی نہیں بلکہ حسن اخلاق ہے اور اسلام اسی بات کی تعلیم بھی دیتا ہے۔مذہب اسلام میں جبر و تشدد نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ 

بابا ستیہ نام داس جی نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک آج فرقہ پرستی سے دو چار ہے ،انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار حکومت صبح میں کچھ بیان دیتی ہے اور شام کو صبح میں جاری کئے گئے اس بیان سے مکر جاتی ہے ، انہوں نے پوچھا کہ ایسا ہوگا تو پھر ملک کیسے چلے گا ؟ حافظ حیدر علی (صدر جمعیۃ علماء ضلع ستارا )نے اپنے استقبالیہ خطبہ میں حاضرین، معاونین اور تمام بہی خواہوں کی بے پناہ محبتوں اور ہر ممکن تعاون پرکلمہ تشکر پیش کیا ۔اس موقع پر حافظ عزیر احمد،مفتی محمد انس ،قاری محمد ادریس انصاری،مفتی محمد شاکر خان وغیرہ نے بھی اظہار خیا ل فرمایا۔


Share: