ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / خامنہ ای کا درباری قاری طلبہ پر جنسی تشدد کا مرتکب، شرمناک اخلاقی اسکینڈل پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش

خامنہ ای کا درباری قاری طلبہ پر جنسی تشدد کا مرتکب، شرمناک اخلاقی اسکینڈل پر پردہ ڈالنے کی مذموم کوشش

Thu, 20 Oct 2016 15:22:36    S.O. News Service

تہران،20؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)ایرانی سرکار سے وابستہ درباری شخصیات کے شرمناک اسکینڈلز کوئی نئی بات نہیں۔ ملک میں سامنے آنے والے بڑے بڑے معاشی اسکینڈلز کے بعد ایک شرمناک اخلاقی اسکینڈل سامنے آیا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ ایران کے رہ بر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے گھرکے خاص قاری قرآن کئی سال تک بچوں پر جنسی تشدد کا مرتکب رہا ہے۔ حال ہی میں ایرانی اخبارات میں سامنے آنے والے اسکینڈل نے عوامی سطح پر تشویش کی لہر دوڑا دی جب پتا چلا کہ مرشد اعلیٰ کے مقرب سمجھے جانیوالے ایک قرآن پاک کے شہرت یافتہ قاری 46سالہ سعید طوسی قرآن پڑھانے کی آڑ میں 12سے 14سال کے بچوں کو مسلسل سات سال تک جنسی ہوس کا نشانہ بناتا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق شرمناک اخلاقی اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد مرشد اعلیٰ کے مقرب حلقے اور ایرانی عدالتیں مجرم کا کیس چھپانے کے لیے سرگرم ہوگئی ہیں۔ کیونکہ اس شرمناک واقعے کے منکشف ہونے کے بعد سپریم لیڈر کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچنے کااندیشہ ہے۔ سپریم لیڈر گزشتہ کئی سال سے قاری سعید طوسی پر نہ صرف اندھا اعتماد کیے ہوئے تھے بلکہ انہیں عالمی سطح پر قرآت قرآن کے مقابلوں میں شریک کرا کر اسے بین الاقوامی شہرت بھی دلواچکے ہیں۔اسکینڈل کی پردہ پوشی کے لیے سپریم لیڈر کے مقرب قاری کا کیس متنازع بناتے ہوئے اسے دشمنوں کی افواہوں اور سازشوں کا شاخسانہ قرار دینے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ قاری سعید طوسی عالمی سطح پر قرات قرآن کے دسیوں مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ انہوں نے کم سے کم قرآن پاک کی قرات20عالمی مقابلوں میں حصہ لیا۔ شام اور ملائیشیا میں منعقدہ قرآت قرآن کے عالمی مقابلوں میں قاری سعید طوسی نے پہلی پوزیشن بھی حاصل کی تھی۔

امریکا سے نشر ہونے والے ایک فارسی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں حال ہی میں انکشاف کیاگیا ہے کہ قاری سعید طوسی کے جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے تین بچوں نے بتایا انہیں جنسی ہراسانی کانشانہ بنایاگیا۔ ٹی وی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم قاری سعید کے خلاف ٹھوس تحریری اور آڈیو ثبوت موجود ہیں۔ ایک موقع پر قاری سعید طوسی نے اپنے جرم کا تحریری اعتراف کیا ہے جس میں یہ عہد بھی کیا ہے کہ وہ آئندہ یہ جرم نہیں کرے گا۔

ایک آڈیو پیغام میں قاری سعید طوسی کو یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اس کے اسکینڈل کے بارے میں سپریم لیڈر اور جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق لاری جانی کو بھی علم ہے مگر وہ اس کیس کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ ملک میں قرآن کی ثقافت عام کرنے کیلئے قائم کردہ سرکاری ادارے کو بدنامی سے بچایا جاسکے۔قاری طوسی کی ہوس کا نشانہ بننے والے اس کے ایک شاگرد نے بتایا کہ چند سال قبل ایک غیرملکی سفر کے دوران اس پر جنسی تشدد کیاگیا جب وہ قاری صاحب کے ہمراہ ایک عالمی مقابلہ حسن قرآت میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ طالب علم نے بتایا کہ دوسرے ملک میں جانے کے بعد ہم نے ایک ہوٹل میں دو الگ الگ کمرے بک کرائے۔ بعد میں قاری طوسی نے اپنا کمرہ چھوڑ دیا اور ہم ایک ہی کمرے میں اکھٹے ہوگئے جہاں قاری طوسی نے اسے 12سال کی عمر میں جنسی ہوس گیری کا نشانہ بنایا۔ اسی نوعیت کے دو دیگر شرمناک کیسز میں قاری طوسی پر طلباء کو جنسی تشدد کا نشانہ بنائے جانے کادعویٰ کیا گیا ہے۔


Share: