چنتامنی:21 /مارچ(محمد اسلم/ایس او نیوز)تعلقہ بھر میں’’ بغیر حکم منصوبے ‘‘میں زمینات کے دستاویز درست کرنے کیلئے 3348عرضیاں تعلق دفتر میں داخل ہوئے تھیں ان عرضیوں کی جانچ کرکہ 102عرضیوں کو حل کرکہ 136.35ایکٹ زمین منظور کی گئی ہے یہ بات رُکن اسمبلی جے کے کرشناریڈی نے کہی ۔
آج یہاں کے تعلق دفتر میں ساگوال چھٹی 80مستحق کسانوں میں تقسیم کرنے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بقیہ 3226عرضیوں کی جانچ کرنے کے لئے متعلقہ افسروں کو ہدایت دی گئی ۔کرشناریڈی نے کہا زراعت کررہے کسانوں کے زمینات کو بغیر تحقیقات کے ان سے چھین لینا صحیح نہیں ہے کسانوں کے چاہئے جو برسوں سے زمینات پر زراعت کررہے ہیں اگر ان کے دستاویز صحیح نہیں ہے بغیر حکم منصوبے کے تحت تعلق دفتر میں عرضی داخل کرکہ زمینات کے دستاویز فوری درست کرلیں ورانہ آئندہ دنوں میں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔کرشناریڈی نے کہا کہ درخواست کمیٹی کو جو کسان اپنے جائیداد کے دستاویز تیار کرنے کیلئے عرضیاں داخل کی ہے ان کسانوں کے جائیدادوں کا معائنہ کرکہ اُن کو تعلقہ انتظامیہ سے کھاتہ کندیا کے دستویزات تیار کرکہ دیا جائے گا تعلقہ انتظامیہ کے افسران کسانوں کے جائیدادوں کا پہانی دینے میں کوتاہی نہ کرے اور اُن کو جان بوجھ کر دفتر کا چکر کاٹنے کیلئے مجبور نہ کرے ۔
انہوں نے محکمہ مالگذاری افسروں کو وارنگ دیتے ہوئے کہا کہ کہ کئی کسان ایک چھوٹے کام کے لئے تعلق دفتر کا مہینوں سے چکر کاٹنے کی شکایتیں عام ہیں افسروں کو چاہئے کہ کسانوں کے ہر ایک کام جلد سے کرکہ دے دیا جائے کیونکہ کسان دیہی علاقوں میں کھیتی باڈی کرنا چھوڑ کر تعلق دفتر کے روبرو کئی دنوں تک قطارے میں کھڑے رہتے ہیں لیکن پھر بھی ان کے کام نہیں پاتے افسران خود دیہی علاقوں کا جائزہ لیکرکسانوں کے جو بھی ممکن مسئلہ ہیں انہیں حل کرنے کے لئے کوشش کی جائے صرف سرکاری افسران چار دیوروں کے اندر رہ کر کام کرنے سے کسانوں کے مسئلہ حل نہیں ہوپاتے افسران خود جاکر دیہی علاقوں میں دیکھیں کے کسانوں کے حالات کیا ہے ۔کرشناریڈی نے مزید کہا کہ ہر محکمہ کے افسر سیاست کرنا چھوڑ کر عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کریں ان کا اولین فریضہ ہے حکومت کے کئی اسکیمیں افسران کے لاپرواہی سے واپس ہورہے ہیں اگر افسران متحد ہوکر عوام کوبنیادی سہولتیں فراہم کرے تو چنتامنی حلقہ کی مزید ترقی ہوسکتی ہیاس موقع پر تحصیلدار گنگپا بغیر حکم سمیتی کے رُکن ماڈکیرے ایرپاریڈی یگوکوٹے سوریش منجولا سمیت محکمہ مالگزاری کے افسران وغیرہ موجود رہے ۔